حکومتی سرپرستی میں جہاد ’ختم‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی پنجاب کے اضلاع بہاولپور اور بہاولنگر میں کم و پیش چھوٹے بڑے چار سو سے زائد مدارس ہیں۔ان میں ایک ایسی جہادی تنظیم کا مدرسہ بھی شامل ہے جسے سرکاری طور پر کالعدم قرار دیا جا چکا ہے۔ بڑے بڑے رقبہ پر تعمیر ان مدارس میں ضلع بہاولپور اور بہاولنگر کے گرد و نواح کے علاقوں کے غریب خاندانوں کے بچے زیر تعلیم ہیں۔ مقامی صحافیوں کے مطابق ماضی میں بہاولپور اور بہاولنگر کے علاقوں میں کالعدم تنظیمیں کھلے عام سرگرم عمل رہی ہیں اور مقامی نوجوانوں کو صوبہ سرحد کے علاقے مانسہرہ اور دیگر جگہوں پر واقع کیمپوں میں جہادی تربیت کے لئے بھرتی کرتی رہی ہیں تاہم سرکاری پابندی کے بعد ان تنظیموں نے بظاہر اپنا کام بند کردیا ہے اور ان کے زیر اثر چلنے والے مدارس کے منتظمین بھی ان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں۔ نائن الیون کے واقعہ کے بعد جنوبی پنجاب کے بیشتر مدارس سے غیرملکی طلبہ کو واپس جانا پڑا تاہم اب بھی ان مدارس میں قبائلی علاقوں تعلق رکھنے والے ان کے افراد کے بچے زیر تعلیم ہیں جو یہاں پر ملازمت کی غرض سے مقیم ہیں۔ بہاولپور شہر میں واقعہ مدرسہ دارالعلوم مدنیہ کے محتمم مفتی عطا الرحمن کا کہنا ہے جب سے حکومت کی طرف سے جہاد پر پابندی عائد کی گئی ہے اس وقت سے یہ کام روکا ہوا ہے اور اگر کہیں ایسا ہوگا تو وہ واضح نہیں ہے۔
ان کے بقول جب حکومت کی سرپرستی میں جہاد ہوا تو اس سے علماء کو ایک راستہ ملا اب علماء جہاں بھی دشمن کو دیکھیں گے تو انہوں نے جہاد تو کرنا ہی ہے۔ مفتی عطاء الرحمن کا یہ بھی کہنا ہے کہ مدارس اپنے تئیں کسی طالبعلم کو جہاد کی غرض سے قبائلی علاقوں میں نہیں بھیجتے البتہ اگر کوئی قبائلی علاقے میں جاتا ہے تو وہ اپنی مرضی کا مالک ہے ۔ بہاولپور اور بہاول لنگر میں قائم بعض مدارس کے منتظمین اور عملے کا کہنا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں ان کے اداروں کی نگرانی کر رہی ہیں اور مختلف اوقات میں ان سے چھان بین بھی کرتی ہیں۔ ان مدارس کے اخراجات کے بارے میں مفتی عطاء الرحمن کا کہنا ہے کہ پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ امریکہ مدارس کو امداد دیتا تھا لیکن اب امریکہ کا نام نہیں لیا جاتا۔ ان کے بقول اخراجات کے بارے میں خیفہ ایجنسیوں کے لوگ بھی ان سے چھان بین کرتے ہیں حالانکہ ان کو بتایا ہے کہ اللہ ان کی مدد کرتا ہے ۔ دور دراز اور پسماندہ ہونے کی وجہ سے جنوبی پنجاب کے صحرا میں پھیلے ان چھوٹے بڑے قصبوں کا شمار آج بھی ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں تعلیم و صحت کی سہولیات اور روزگار کے مواقع کم اور غربت زیادہ ہے جبکہ بعض علاقوں میں قبائلی روایات بدستور بہت مستحکم ہیں۔ ایسے میں مذہبی تنگ نظری اور شدت پسندی کو پھیلنے سے روکنے کے لئے حکومت کو ان علاقوں کی ترقی پر کچھ زیادہ توجہ دینا ہوگی۔ | اسی بارے میں ’پاکستانی اجازت ضروری نہیں‘11 September, 2008 | پاکستان پاک افغان تعلقات یونہی رہیں گے11 September, 2008 | پاکستان باجوڑ میں بیس جنگجو ہلاک11 September, 2008 | پاکستان ’غیر ملکی فوج حملہ نہیں کرسکتی‘10 September, 2008 | پاکستان دیر: مسجد میں بم دھماکے، چھ ہلاک10 September, 2008 | پاکستان باجوڑ جھڑپوں میں چوبیس ہلاک10 September, 2008 | پاکستان دہشت گرد کے خلاف جنگ: سرحد کی دہلیز پر10 September, 2008 | پاکستان ’انٹیلی جنس ادارے الگ رہیں‘10 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||