BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکومتی سرپرستی میں جہاد ’ختم‘

 مدرسہ طالبعلم (فائل فوٹو)
جنوبی پنجاب کے مدارس میں قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے بچے زیر تعلیم ہیں
جنوبی پنجاب کے اضلاع بہاولپور اور بہاولنگر میں کم و پیش چھوٹے بڑے چار سو سے زائد مدارس ہیں۔ان میں ایک ایسی جہادی تنظیم کا مدرسہ بھی شامل ہے جسے سرکاری طور پر کالعدم قرار دیا جا چکا ہے۔

بڑے بڑے رقبہ پر تعمیر ان مدارس میں ضلع بہاولپور اور بہاولنگر کے گرد و نواح کے علاقوں کے غریب خاندانوں کے بچے زیر تعلیم ہیں۔

مقامی صحافیوں کے مطابق ماضی میں بہاولپور اور بہاولنگر کے علاقوں میں کالعدم تنظیمیں کھلے عام سرگرم عمل رہی ہیں اور مقامی نوجوانوں کو صوبہ سرحد کے علاقے مانسہرہ اور دیگر جگہوں پر واقع کیمپوں میں جہادی تربیت کے لئے بھرتی کرتی رہی ہیں تاہم سرکاری پابندی کے بعد ان تنظیموں نے بظاہر اپنا کام بند کردیا ہے اور ان کے زیر اثر چلنے والے مدارس کے منتظمین بھی ان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں۔

نائن الیون کے واقعہ کے بعد جنوبی پنجاب کے بیشتر مدارس سے غیرملکی طلبہ کو واپس جانا پڑا تاہم اب بھی ان مدارس میں قبائلی علاقوں تعلق رکھنے والے ان کے افراد کے بچے زیر تعلیم ہیں جو یہاں پر ملازمت کی غرض سے مقیم ہیں۔

بہاولپور شہر میں واقعہ مدرسہ دارالعلوم مدنیہ کے محتمم مفتی عطا الرحمن کا کہنا ہے جب سے حکومت کی طرف سے جہاد پر پابندی عائد کی گئی ہے اس وقت سے یہ کام روکا ہوا ہے اور اگر کہیں ایسا ہوگا تو وہ واضح نہیں ہے۔

جنرل ضیا اور جہاد
علماء کرام کی خواہش تھی کہ جہاد ہو اور ماضی میں جنرل ضیاء الحق سمیت دیگر حکمرانوں نے اپنے مقاصد کے لیے ان سے کام لیا اور اس طرح علماء کرام کو بھی موقع مل گیا۔
مفتی عطا الرحمن
مفتی عطا الرحمن کا کہنا ہے کہ علماء کرام کی خواہش تھی کہ جہاد ہو اور ماضی میں جنرل ضیاء الحق سمیت دیگر حکمرانوں نے اپنے مقاصد کے لیے ان سے کام لیا اور اس طرح علماء کرام کو بھی موقع مل گیا۔

ان کے بقول جب حکومت کی سرپرستی میں جہاد ہوا تو اس سے علماء کو ایک راستہ ملا اب علماء جہاں بھی دشمن کو دیکھیں گے تو انہوں نے جہاد تو کرنا ہی ہے۔

مفتی عطاء الرحمن کا یہ بھی کہنا ہے کہ مدارس اپنے تئیں کسی طالبعلم کو جہاد کی غرض سے قبائلی علاقوں میں نہیں بھیجتے البتہ اگر کوئی قبائلی علاقے میں جاتا ہے تو وہ اپنی مرضی کا مالک ہے ۔

بہاولپور اور بہاول لنگر میں قائم بعض مدارس کے منتظمین اور عملے کا کہنا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں ان کے اداروں کی نگرانی کر رہی ہیں اور مختلف اوقات میں ان سے چھان بین بھی کرتی ہیں۔

ان مدارس کے اخراجات کے بارے میں مفتی عطاء الرحمن کا کہنا ہے کہ پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ امریکہ مدارس کو امداد دیتا تھا لیکن اب امریکہ کا نام نہیں لیا جاتا۔ ان کے بقول اخراجات کے بارے میں خیفہ ایجنسیوں کے لوگ بھی ان سے چھان بین کرتے ہیں حالانکہ ان کو بتایا ہے کہ اللہ ان کی مدد کرتا ہے ۔

دور دراز اور پسماندہ ہونے کی وجہ سے جنوبی پنجاب کے صحرا میں پھیلے ان چھوٹے بڑے قصبوں کا شمار آج بھی ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں تعلیم و صحت کی سہولیات اور روزگار کے مواقع کم اور غربت زیادہ ہے جبکہ بعض علاقوں میں قبائلی روایات بدستور بہت مستحکم ہیں۔

ایسے میں مذہبی تنگ نظری اور شدت پسندی کو پھیلنے سے روکنے کے لئے حکومت کو ان علاقوں کی ترقی پر کچھ زیادہ توجہ دینا ہوگی۔

اسی بارے میں
باجوڑ میں بیس جنگجو ہلاک
11 September, 2008 | پاکستان
باجوڑ جھڑپوں میں چوبیس ہلاک
10 September, 2008 | پاکستان
’انٹیلی جنس ادارے الگ رہیں‘
10 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد