BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 10 September, 2008, 16:09 GMT 21:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’انٹیلی جنس ادارے الگ رہیں‘

’انٹیلی جنس ادارے جہادی عمل سے الگ رہیں‘
نائن الیون کے بعد پاکستان میں شدت پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہوا اور اس میں سیکڑوں لوگ مارے گئے ہیں تاہم ملک کے لبرل حلقوں کی جانب سے اس کے خلاف وہ ردعمل سامنے نہیں آیا جس کی توقع کی جاتی رہی ہے۔

لال مسجد کے خلاف آپریشن کو ہی لے لیں جس کی وجہ سے حکومت پر غلط حکمت عملی اپنانے پر کڑی تنقید کی گئی لیکن مسجد میں پناہ گزین شدت پسندوں کی کھل کر مذمت نہیں کی گئی۔


سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کی چئرپرسن بے نظیر بھٹو اپوزیشن کی وہ واحد رہنما تھیں جنہوں نے اس کارروائی کی حمایت کی۔

تاہم ان کے اس بیان پر بھی بڑا واویلا مچا اور انہیں فوجی حکمران کا ساتھ دینے کے طعنے دیئے گئے۔

اس دوران حکومت کے خلاف غم و غصے کا شور اتنا زیادہ تھا کہ لال مسجد کو جہادی مورچہ بنانے والے غازی عبدالرشید اور موت کے خوف سے برقع پہن کر فرار ہونے والے مولانا عبدالعزیز اور طالبات کو خودکش حملوں کے لئے تیار کرنے والی ان کی اہلیہ ام حسان کے خلاف ابھرنے والی اکا دکا آواز بھی دب کر رہ گئی۔

تقریباً ایسا ہی ہر بار ہوا۔ افغانستان ہو یا پاکستان کے قبائلی، نیم قبائلی علاقے یا پھر صوبہ سرحد کا شورش زدہ ضلع سوات۔

پچھلے سات برسوں میں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی ریاست کی کارروائیوں کو اسی طرح شک کی نگاہ سے دیکھا گیا جس طرح پڑوسی ملک افغانستان میں امریکہ اور اسکے اتحادی ممالک کی فوجوں کی کارروائیوں کو۔

اور نہ تو جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت عسکریت پسندی کے خلاف رائے عامہ اپنے حق میں کرسکی اور نہ ہی روشن خیال اور ترقی پسند سیاسی اور سماجی حلقے مسلح شدت پسندی کے چھلاوے کے خلاف پوری قوت سے آواز بلند کرتے نظر آئے۔

سات برس سے شک کی نگاہ میں
پچھلے سات برسوں میں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی ریاست کی کارروائیوں کو اسی طرح شک کی نگاہ سے دیکھا گیا جس طرح پڑوسی ملک افغانستان میں امریکہ اور اسکے اتحادی ممالک کی فوجوں کی کارروائیوں کو۔

لاہور میں رہائش پذیر سینئر صحافی اور تجزیہ کار حسین نقی کہتے ہیں کہ اسکی وجہ امریکہ اور پاکستان کی وہ ’ناقص حکمت عملی، ہے جس کے تحت وہ پاکستان اور افغانستان کے اندر اسلامی شدت پسندی سے نمٹنے کی کوشش کرتے آرہے ہیں۔

’جس طریقے سے امریکہ نے اس جنگ کو ہینڈل کرنے کی کوشش کی ہے خصوصاً ہمارے ملک میں اور پھر ہماری سٹیٹ جس طرح سے اس میں شامل ہوئی اس میں قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کو نظر انداز کیا گیا۔ اس لئے سول سوسائٹی اس کو من و عن سپورٹ نہیں کرسکتی بلکہ ان چیزوں سے سول سوسائٹی اور لبرل عناصر جو ہیں ان کی پوزیشن کمزور ہوئی ہے‘۔

دہشتگردی کے خلاف جنگ کے آغاز کے ایک سال بعد ہی 2002میں عام انتخابات ہوئے تو پاکستان میں اسلامی انقلاب کی حامی مذہبی جماعتوں کا اتحاد ایم ایم اے یا متحدہ مجلس عمل پہلی بار پارلیمینٹ میں تیسری بڑی سیاسی قوت بن کر ابھرا۔ اس نے صوبہ سرحد اور بلوچستان میں حکومتیں بنائیں اور اس اتحاد کے سیکریٹری جنرل مولانا فضل الرحمن کو قائد حزب اختلاف کا عہدہ بھی دیا گیا۔

بنیاد پرستی کی حمایت عوامی نہیں
 میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں اس بات کا امکان نہیں ہے کہ یہاں پر اس قسم کی بنیاد پرستی کو پاپولر سپورٹ حاصل ہے یا مستقبل میں ہوسکتی ہے
صحافی حسین نقی

بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد ہونے والے اٹھارہ فروری کے انتخابات کے نتائج اگرچہ خاصے مختلف تھے اور صوبہ سرحد میں سیکولر سیاسی جماعت اے این پی نے مذہبی جماعتوں کو شکست دی۔ لیکن اسکے باوجود حکومتی اتحاد میں شامل مولانا فضل الرحمن کی جماعت کے موقف میں بظاہر اب بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی اور آج بھی ان کے تین بڑے مطالبات جامعہ حفصہ کی بحالی، عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کا خاتمہ اور حقوق نسواں ایکٹ میں ترامیم کرکے حدود آرڈیننس کو بحال کرنا ہیں۔

کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ آج بھی عسکریت پسندوں کی سیاسی حمایت برقرار ہے۔

صحافی اور تجزیہ کار اسلم خواجہ اس سے اتفاق نہیں کرتے۔

’جو فریق جہاد کے نام پر شدت پسندی میں ملوث ہیں وہ سب کے سب جے یو آئی خاص کر مولانا فضل الرحمن سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ سیاست تو مذہب کے نام پر کرتے ہیں لیکن تشدد کے ذریعے جو قوتیں تبدیلی لانا چاہتی ہیں ان کی حمایت نہیں کرتے‘۔

ان کے بقول جے یو آئی کو مکمل طور پر ایسی جماعت نہیں قرار نہیں دیا جاسکتا جو مذہب کے نام پر تشدد کی حمایتی ہو۔

سینئر صحافی حسین نقی کہتے ہیں کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں اس بات کا امکان نہیں ہے کہ یہاں پر اس قسم کی بنیاد پرستی کو پاپولر سپورٹ حاصل ہے یا مستقبل میں ہوسکتی ہے‘۔

دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دوران فوجی کارروائیوں کے ردعمل میں ملک کے مختلف حصوں میں لگ بھگ نوے خودکش حملے ہوئے جبکہ بم دھماکوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے جن میں تیرہ سو سے زائد لوگ ہلاک ہوئے جبکہ عسکریت پسندوں کے ساتھ لڑائی میں ایک ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار بھی مارے گئے۔

اور تو اور خود بے نظیر بھٹو کی زندگی دہشتگردی کی نذر ہوگئی۔ اسکے باوجود دارالحکومت اسلام آباد میں دو ماہ پہلے لال مسجد آپریشن کی برسی پر ہونے والے اجتماع میں نہ صرف انتقام لینے اور جہاد جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا بلکہ وہاں سیکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر خودکش حملہ بھی ہوا۔

حیرت انگیز طور پر دھماکے سے چند گھنٹے پہلے وزیر اعظم کے مشیر داخلہ رحمن ملک برسی کے اجتماع کے شرکاء میں آم تقسیم کررہے تھے۔ کیا وجہ ہے کہ دہشتگردی کی وجہ سے اپنی ہی قائد کھودینے والی جماعت بھی شدت پسندوں سے نرمی برتنے پر مجبور نظر آئی۔

مشیرِ داخلہ آم تقسیم کر رہے تھے
حیرت انگیز طور پر اسلام آباد میں دھماکے سے چند گھنٹے پہلے وزیر اعظم کے مشیر داخلہ رحمن ملک برسی کے اجتماع کے شرکاء میں آم تقسیم کررہے تھے۔ کیا وجہ ہے کہ دہشتگردی کی وجہ سے اپنی ہی قائد کھودینے والی جماعت بھی شدت پسندوں سے نرمی برتنے پر مجبور نظر آئی۔

پیپلز پارٹی کے سابقہ دور حکومت میں وفاقی وزیر رہنے والے اقبال حیدر کہتے ہیں کہ اسکی وجہ جنرل ضیاء کے دور سے چلی آرہی وہ ریاستی پالیسی ہے جو اب بھی بہت زیادہ تبدیل نہیں ہوئی۔
’میرا یہ یقین کامل ہے کہ پاکستان کا سٹیبلشمینٹ مذہبی جنونیت کے پجاریوں اور دہشتگردوں کی سرپرستی کرتا رہا ہے۔ سانپ کو آپ کسی صورت دودھ نہیں پلاسکتے۔ کوبروں کو دودھ پرویز مشرف پلاتے رہے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ لال مسجد کے موجودہ پیش امام کو یہ ہمت کیسے پڑی کہ اس نے افواج پاکستان کو کافر اور واجب القتل قرار دیا اور کسی نے اس کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھائی۔

انہوں نے اس ضمن میں ایک اور مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف کی حکومت نے لال مسجد آپریشن کے دوران غازی عبدالرشید سے مذاکرات کے لئے عسکریت پسند مولانا فضل اللہ کی مدد حاصل کی تھی جس نے بعد میں سوات جیسے سیکولر علاقے میں جاکر ایک بڑا لشکر بنالیا اور اسے تشدد کی وادی میں بدل دیا۔

صحافی اور تجزیہ کار اسلم خواجہ اقبال حیدر کے اس دعوے کو بہت زیادہ غلط نہیں سمجھتے لیکن ان کے بقول اسکی ایک اور وجہ بھی ہے۔

’جو انٹیلی جنس ایجنسیاں اور دفاعی ادارے ہیں ان کا پورے کا پورا کلچر ہی جہاد کے تصور پر کھڑا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست ان دفاعی اداروں اور انٹیلی جنس کے اداروں کو پابند کرے کہ وہ اس پورے کے پورے جہادی عمل سے خود کو الگ کریں اور یہ اسی صورت میں ممکن ہوسکے گا جب ہمارے یہاں جمہوری ادارے مضبوط ہوں‘۔

بعض تجزیہ کاروں کے بقول گزشتہ ایک سال میں پے در پے ہونے والے خودکش حملوں اور بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد مذہبی سیاسی قوتیں عوامی حمایت کے کمزور ترین مرحلے پر کھڑی ہیں جبکہ طاقتور جنرل پرویز مشرف کے برعکس پیپلز پارٹی کی منتخب حکومت کو ملک گیر سیاسی حمایت حاصل ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ حکومت مذہبی انتہا پسندی اور دہشتگردی کے جن کو قابو میں کرنے کے لئے اپنی سیاسی طاقت اور غیرملکی حمایت کو کس طرح استعمال کرتی ہے۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستانی فوج کو تشدد کے مختلف واقعات سے نمٹنا پڑا ہےتشدد کی فہرست
حالیہ برسوں میں پاکستان میں تشدد اور ہلاکتیں
لال مسجد آپریشن
والدین بچوں کی تعلیم کے لیے فکرمند
زخمیلال مسجد آپریشن
فوجی کارروائی کئی گھنٹوں سے جاری
سیکٹر جی سکس کے مکین ہمسائیگی کی سزا
’سیکٹر جی سکس کے مکین پریشان‘
لال مسجدتصویروں میں
لال مسجد سے اسلام شریعت کا اعلان
گولڈن ٹمپل اسلام آباد
لال مسجد گولڈن ٹمپل کی راہ پر: وسعت اللہ
آپریشن سائلنسڈیل کیوں نہ ہوئی؟
لال مسجد ڈیل کیسے اور کیوں ناکام ہوئی؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد