BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 10 September, 2008, 23:26 GMT 04:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ جھڑپوں میں چوبیس ہلاک

مقامی ذرائع نے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد چھ بتائی ہے
قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپوں میں چار حکومتی اہلکار اور بیس مسلح طالبان ہلاک ہو گئے ہیں۔

تاہم طالبان نے اپنے ساتھیوں کی ہلاکت کی تردید کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز کے چوبیس اہلکاروں اور سات گاڑیوں کو تباہ کرنے کا جوابی دعوی کیا ہے۔

پاکستانی فوج کے ایک ترجمان میجر مراد خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے بدھ کو طالبان کے گڑھ سمجھے جانے والے علاقے لوئی سم کے قریب رشکئی کے مقام پر طالبان کے ایک اہم مرکز پر قبضہ کر لیا ہے۔

انہوں نے دعوی کیا کہ اس دوران سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان ایک جھڑپ ہوئی جس میں بیس طالبان ہلاک ہوگئے ہیں۔انہوں نے جوابی حملے میں چار اہلکاروں کے ہلاکت کی بھی تصدیق کی۔

گزشتہ چند ہفتوں میں باجوڑ سے تقریباً تین لاکھ افراد نقل مکانی کر چکے ہیں

طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے اپنے ساتھیوں کی ہلاکت کے حوالے سے حکومتی دعوی کی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ بدھ کی صبح رشکئی کے مقام پر مسلح طالبان نے سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملہ کیا جس میں ان کے دعوی کے مطابق چوبیس اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

انہوں نے یہ دعوی بھی کیا کہ طالبان نے سکیورٹی فورسز کی سات گاڑیوں کو قبضہ میں لیکر نذرِ آتش کر دیا ہے۔تاہم فریقین کے ان دعؤوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے البتہ ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے پاس چھ اہلکار زخمی حالت میں لائے گئے ہیں۔

اس سے قبل باجوڑ ایجنسی میں سکیورٹی فورسز نے ایک حکمت عملی کے تحت تین ہفتوں تک گن شپ ہیلی کاپٹروں اور جیٹ طیاروں سے حملے جاری رکھے ہوئے تھے جس میں درجنوں عام شہریوں کے علاوہ حکام نے بڑی تعداد میں طالبان کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا تھا۔

اس کارروائی کے دوران باجوڑ سے تقریباً تین لاکھ افراد نے نقل مکانی کی مگر حکومت کی جانب سے ماہ رمضان میں آپریشن کے معطل کرنے کے اعلان کے بعد بڑی تعداد میں لوگ اپنے گھروں کو واپس چلےگئے۔

سکیورٹی فورسز نے گزشتہ کئی دنوں سےحکومتی عملداری کی بحالی کے لیے مختلف علاقوں کی طرف پیش قدمی شروع کی ہوئی ہے اور انہیں پہلی مرتبہ مسلح طالبان کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اسی بارے میں
طالبان کے خلاف عوامی ردعمل
31 August, 2008 | پاکستان
باجوڑ طالبان کےگھر نذرآتش
31 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد