BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 01 September, 2008, 14:11 GMT 19:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ میں طالبان کےگھروں پر حملے

طالبان فائل فوٹو
لوگ طالبان کی ظلم و ستم سے تنگ آچکے تھے: قبائلی رہنما
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں قبائلی لشکر نے طالبان کے خلاف کاروائیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے شدت پسند کمانڈروں اور ان کے حامیوں کے مزید گھروں ارو مراکز کو نذرآتش کردیا ہے جبکہ لشکر نے ایک دینی مدرسے کو بھی مسمار کیا ہے۔

باجوڑ ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سینکڑوں مسلح افراد پر مشتمل قبائلی لشکر نے سالارزئی اور آس پاس کے علاقوں میں طالبان کمانڈروں اور ان کے حامیوں کے گھروں پر حملوں کا سلسلہ دوسرے روز بھی جاری رکھا۔

لشکر میں شامل ایک قبائلی رہنما ملک کمال خان نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایاکہ گزشتہ دو دنوں میں سالارزئی تحصیل میں مقامی طالبان کے کوئی تیس 30 کے قریب گھروں اور مراکز کو جلایا جاچکا ہے جن میں اہم کمانڈروں کے گھر بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لشکر نے ایک دینی مدرسے کو بھی مسمار کیا ہے جس کو ان کے مطابق طالبان دینی مدرسہ کم جبکہ تخریبی سرگرمیوں کےلیے زیادہ استعمال کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مدرسے سے اسلحہ اور سکیورٹی فورسز کے خون الودہ یونیفارم اور کپڑے بھی ملے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی لشکر نے متفقہ طورپر فیصلہ کیا ہے کہ مسمار اور جلائے جانے والے گھر کوئی دوبارہ تعمیر نہیں کرے گا اور اگر کسی نے تعمیر کرنے کی کوشش کی تو ان سے بھاری جرمانہ وصول کیا جائے گا۔

قبائلی رہنما کے بقول لوگ طالبان کی ظلم و ستم سے تنگ آچکے تھے ان کی وجہ سے باجوڑ کے لوگوں کو اپنا علاقہ چھوڑنا پڑا، خواتین اور بچوں نے پہاڑوں میں راتیں گزاریں اور ان کی بے عزتی ہوئی ، اس لیے مجبوراً لوگوں کو اٹھنا پڑا اور انہوں نے سالارزئی تحصیل سے اب طالبان کومکمل طورپر بے دخل کردیا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سالارزئی میں کاروائیوں کے بعد اب قبائل نے دوسرے علاقوں میں قائم طالبان کے گھروں اور مراکز کے خاتمے کےلیے تیاری شروع کردی ہے۔

واضح رہے کہ چند دن قبل سالارزئی کے دو قبائلی سرداروں کو ایک نامعلوم راکٹ حملے میں ہلاک کیا گیا تھا۔ اس قتل کے ردعمل میں قبائلی لشکر نے ایک طالب کو گولیاں مار کر ہلاک جبکہ ان کے ایک مرکز کو نذرآتش کیا تھا۔ تاہم طالبان نے مشران کی ہلاکت سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔

گزشتہ روز تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان مولوی عمر کا کہنا تھا کہ باجوڑ ایجنسی میں بعض حکومتی حامی قبائلی مشران نے طالبان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ شروع کررکھا ہے جس کا مقصد طالبان کو بدنام کرنا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی تھی کہ طالبان عوام سے جنگ نہیں چاہتے بلکہ بعض لوگ دوسروں کے اشاروں پر ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے۔

واناطالبان کے مخالف
لیویز کی ہلاکت پر اورکزئی قبائلی برہم
وزیرستانوزیرستان کے طالبان
قبائلی تشدد اور مذہبی انتہا پسندی ایک ساتھ
فائل فوٹومہمند و باجوڑ
شہریوں کی ہلاکتیں کیا رنگ لائیں گی
گائیڈڈ میزائل حملہگائیڈڈ میزائل حملے
قبائلی علاقوں میں گائیڈڈ میزائل حملوں میں اضافہ
وزیرستان’ہرشخص طالب ہے‘
’فوج نہ ہٹائی گئی تو امن کا قیام ناممکن ہے‘
جرگہ(فائل فوٹو)’دہشتگردی‘ کامقابلہ
پاکستانی قبائلی عمائدین امن کانفرنس کرینگے
فائل فوٹوقبائلی تنازعات
سندھ میں قبائلی تصادم میں 486 افراد ہلاک
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد