BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 01 September, 2008, 17:06 GMT 22:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طالبان فرار ہوچکے ہیں: رحمان ملک

رحمان ملک
اکثر شدت پسندوں نے بال کٹوا لیے ہیں اور کھنچ کر پشاور آچکے ہیں
مشیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ انہوں نے باجوڑ میں اپنے تمام اہداف حاصل کر لیے ہیں کیونکہ سکیورٹی فورسز نے اپنی تمام پوزیشنیں دوبارہ حاصل کر لیں ہیں اور مقامی طالبان وہاں سے فرار ہوچکے ہیں۔

بی بی سی اردو سروس کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق اکثر شدت پسند وہاں سے بھاگ چکے ہیں۔ ’ہمیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے بال کٹوا لیے ہیں اور کھنچ کر پشاور آچکے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کامیابی حاصل کرلی ہے لیکن اصل مسئلہ اب اس پیش رفت کو دوام دینے کا ہے کہ کوئی شدت پسند واپس نہ آئے۔ انہوں نے واضع کر دیا کہ شدت پسندوں کی جانب سے کسی قسم کی کارروائی چاہے جتنی چھوٹی ہو، اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

رحمان ملک نے اس تاثر سے اتفاق نہیں کیا کہ فوجی کارروائی ایک ایسے وقت ختم کی گئی جب سکیورٹی فورسز کو ’اپر ہینڈ‘ حاصل تھا۔ ’یہ کارروائی ختم نہیں معطل کی گئی ہے جس کی بڑی وجہ رمضان کا احترام ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس جنگ بندی کی دوسری وجہ بےگھر ہوئے لوگ ہیں جو رمضان اپنے گھروں میں کرنا چاہتے تھے۔ ان کے مطابق نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد پانچ لاکھ ہے لہذا انہیں مجبور ہو کر ایسا کرنا پڑا۔

ایک بم کا جواب دس بموں سے
 اگر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی نے پولیس یا ایف سی بلکہ سویلین تک پر حملہ کیا تو اس ایک بم کا جواب دس بموں سے دیا جائے گا۔ ہم ان پر سیٹلائٹ کے ذریعے بھی نظر رکھ رہے ہیں
رحمان ملک

تاہم انہوں نے واضع الفاظ میں کہا کہ اگر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی نے پولیس یا ایف سی بلکہ سویلین تک پر حملہ کیا تو اس ایک بم کا جواب دس بموں سے دیا جائے گا۔ ’ہم ان پر سیٹلائٹ کے ذریعے بھی نظر رکھ رہے ہیں۔ اگر انہوں نے اپنی تربیتی سرگرمیاں دوبارہ شروع کیں یا پھر منظم ہونے کی کوشش کی تو ہم بھرپور کارروائی کریں گے۔‘

مشیر داخلہ نے باجوڑ میں ہی سلارزئی قبائلی کی جانب سے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کی بھرپور مدد کرے گی۔ ’یہ ہماری ہی ایک کوشش ہے کہ مقامی قبائلی اور ملکوں کو اس بات پر آمادہ کر رہے ہیں کہ وہ اٹھ کھڑے ہوں اور اپنے گاؤں کی حفاظت کریں۔‘

اسی بارے میں
باجوڑ میں فوجی چوکی خالی
28 July, 2008 | پاکستان
خار کا محاصرہ، متضاد دعوے
10 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد