BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 11 September, 2008, 17:46 GMT 22:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ میں بیس جنگجو ہلاک

مقامی ذرائع نے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد چھ بتائی ہے
پاکستانی فوج نے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی اور شورش زدہ ضلع سوات میں کارروائیوں کے دوران بعض غیرملکی جنگجؤوں سمیت بیس مسلح طالبان کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے۔

طالبان نے حکومتی دعووں کی تردید کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز پر شہری آبادی کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق مرنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے جبکہ خبر رساں ایجنسی نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سےکہا ہے کہ اسی سے سو کے درمیان طالبان مارے گئے ہیں۔

پاکستانی فوج کے ایک ترجمان میجر مراد خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جمعرات کو باجوڑ کے صدر مقام خار سے دس کلومیٹر دور ٹانک خطا میں سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان ایک جھڑپ ہوئی ہے جس میں ان کے مطابق بارہ جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

انہوں نے دعوی کیا کہ ہلاک ہونے والوں میں بعض غیر ملکی بھی شامل ہیں۔انہوں نے جھڑپ میں دو اہلکاروں کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی۔

ان کے دعوی کے مطابق انہیں اطلاع ملی ہے کہ مقامی طالبان کے افغان کمانڈر قاری ضیاءالرحمن غیر ملکی جنگجؤوں کے ہمراہ علاقے میں موجود ہیں۔

دوسری طرف مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جمعرات کی صبح جیٹ طیاروں نے عنایت قلعہ کے بازار پر بم پھینکے ہیں جس میں تین سو سے زائد دکانیں تباہ ہوگئی ہیں۔

ایک دکاندار اور عینی شاہد اسرارالدین نے بی بی سی کو بتایا کہ جیٹ طیاروں نے عنایت قلعہ کے بازار میں واقع گول مارکیٹ اور ماموند اڈہ کو نشانہ بنایا ہے۔انکے بقول گول مارکیٹ کی دو سو سے زائد جبکہ ماموند اڈہ میں پچاس سے زائد دکانیں مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہیں جس سے کروڑوں روپے کا سامان خاکستر ہوگیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ باجوڑ میں چھ اگست کو آپریشن کے شروع ہونے کے بعد ایجنسی کی دیگر تحصیلوں کی طرح عنایت قلعہ کا بازار بند پڑا ہے جبکہ علاقے میں اشیاء خوردنوش کی قلت پیدا ہوگئی ہے اور گھروں میں لوگوں کے پاس موجود خوردنی اور روزمرہ کے استعمال کی دیگر اشیاء بھی تقریباً ختم ہوگئی ہیں۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر مراد خان نے سوات میں بھی جمعرات کو دو مختلف کاروائیوں میں آٹھ مسلح طالبان کی ہلاکت کا دعوی کیا ہے۔ ان کے بقول گن شپ ہیلی کاپٹر نے تحصیل کبل کے ننگولئی علاقے میں طالبان کے مقامی کمانڈر خورشید خان کے گھر کو نشانہ بنایا جس میں موجود چھ جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

ان کے مطابق حملے میں خورشید خان اور ان کے دو بچے بھی زخمی ہوگئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جمعرات ہی کی صبح تحصیل مٹہ کے علاقے شیر پلم میں بھی دو مسلح طالبان کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کردیا گیا جب انہوں نے سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔

ان حکومتی دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے البتہ طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے ان دعووں کو بے بنیاد قرار دیتےدہوئے کہا کہ ان کا کوئی بھی ساتھی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ باجوڑ میں سکیورٹی فورسز نے شہری آبادی کو نشانہ بنایا ہے۔

واضح رہے بدھ کو بھی حکومت نے باجوڑ ایجنسی میں رشکئی کے علاقے میں ایک کارروائی کے دوران چار اہلکاروں او ربیس طالبان کے ہلاکت کا دعوی کیا تھا جسے طالبان نے رد کردیا تھا۔

اسی بارے میں
طالبان کے خلاف عوامی ردعمل
31 August, 2008 | پاکستان
باجوڑ طالبان کےگھر نذرآتش
31 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد