افغان شہریوں کی ہلاکتوں پر تشویش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک برس کے اندر افغانستان میں امریکی قیادت میں اتحادی فوج اور طالبان کے درمیان جاری لڑائی میں دو ہزار ایک سو اٹھارہ شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ بات اقوام متحدہ کی سالانہ رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔ تاہم رپورٹ کے مطابق مجموعی تعداد میں سے چالیس فیصد شہری اتحادی اور افغان فوج کی کاروائیوں میں مارے گئے۔ جبکہ پچپن فیصد کے لگ بھگ ہلاکتوں کے ذمہ دار خود شدت پسند ہیں۔ کابل سے نامہ نگار مارٹن پیشینس کے مطابق افغانستان میں لڑائی میں شدت آجانے سے افغان شہریوں کی ہلاکتوں میں بھی بھاری اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان میں زیادہ تر ہلاکتیں ملک کے جنوب میں ان خود کش بم حملوں کے دوران ہوئیں جن میں طالبان شدت پسندوں نے شورش کے خلاف لڑنے والی ملکی اور غیر ملکی فوج کو ہدف بنانے کی کوشش کی مگر ان میں زیادہ شہری نشانہ بنے۔ تاہم رپورٹ میں اعتراف کیا گیا کہ اتحادی افواج کی کاروائیوں کے دوران اٹھ سو سے زیادہ شہری مارے گئے۔ نیٹو کی قیادت میں فوج کے ترجمان نے اس رپورٹ کی سختی سے تردید کی اور کہا ہے کہ ان کی فوجی کاروائیوں میں دو سو دس شہری مارے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ لڑائی میں شہریوں کی ہلاکتیں افغانستان کی حکومت کے لیے بہت ہی حساس معاملہ ہے اور افغان صدر حامد کرزئی اتحادی افواج سے اپنی بات چیت میں متعدد بار اس معاملے کو اٹھا کر اپنی تجاویز دیتے رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں گزشتہ ہفتے صدر کرزئی اور افغانستان میں لڑنے والی نیٹو فوج کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا ہے جس میں مستقبل میں فوجی مشنوں کے دوران شہریوں کو پہنچنے والے جانی نقصان سے بچانے کے لیے ایک نئے طریقہ کار پر اتفاق ہوگیا ہے۔ |
اسی بارے میں ’افغانستان، عشرے لگ سکتے ہیں‘26 October, 2008 | آس پاس مغوی سفارتکار، بے توجہی پر تشویش27 October, 2008 | آس پاس پیٹریئس، سینٹرل کمانڈ کے سربراہ31 October, 2008 | آس پاس افغانستان کے لیے 30 ہزار مزید فوج20 December, 2008 | آس پاس افغانستان، کیا حالات بدلیں گے؟20 January, 2009 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||