BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 26 October, 2008, 11:43 GMT 16:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’افغانستان، عشرے لگ سکتے ہیں‘
 جان ہٹن
فغانستان میں جنگ صرف فوجی ذرائع سے نہیں جیتی جا سکتی: برطانوی وزیر دفاع
برطانیہ کے وزیر دفاع جان ہٹن نے کہا ہے کہ برطانوی افواج افغانستان میں ایک لمبی جنگ میں شریک ہیں جو کئی عشرے تک جاری رہ سکتی ہے۔

برطانوی وزیر دفاع نے کہا کہ افغانستان کی جنگ میں ہار سے بچنے کے لیے خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔

برطانوی وزیر دفاع نے کہا کہ طالبان کی شکست کے بغیر افغانستان میں کامیابی ممکن نہیں ہے اور طالبان کو ہرانےمیں کئی برس لگ سکتے ہیں جبکہ افغانستان میں اتحادی افواج کے مقاصد کے حصول میں عشرے لگ سکتے ہیں۔

برطانوی اخبارات کو دیئے گئے انٹرویوز میں برطانوی وزیر دفاع نے کہا کہ برطانیہ افغانستان میں ایک لمبی جنگ میں شریک ہے اور عوام کو سچ بتانا ضروری ہے۔’افغانستان کے مسئلے کا حل جلدی ممکن نہیں ہے اور اس جنگ کی کامیابی میں کئی عشرے لگ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں جنگ صرف فوجی ذرائع سے نہیں جیتی جا سکتی۔’افغانستان میں جنگ جیتنے کے لیے فوجی کارروائی کے علاوہ اچھی حکمرانی اور تعمیر نو کے کاموں پر بھی توجہ دینی ہوگی۔‘

برطانوی وزیر دفاع نے کہا کہ جو لوگ افغانستان میں ڈیوٹی کر کے واپس آنے والے پر آوازیں کستے ہیں وہ ذہنی مریض ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کو القاعدہ اور طالبان کے حوالے کرنے کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں اور اس کے اثرات برطانیہ پر بھی مرتب ہوں گے۔

انہوں نے نیٹو اور افغان فوجوں کو افغانستان کے چھوٹے کاشتکاروں کو نشانہ بنانے کی بجائے منشیات کی لیبارٹری، منشیات کے سمگلروں پر توجہ دینی چاہیے۔

برطانوی وزیر داخلہ نے کہا کہ اگلا سال افغانستان کے لیے انتہائی اہم سال ہے۔

وزیر دفاع نے تسلیم کیا کہ افغانستان میں برطانوی فوج کو افراد کی کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ فوجیوں کی چھٹیوں سے متعلق فوج کے اپنی ہی قوائد کی خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔ برطانوی وزیر دفاع نے کہا کہ ایسے نہیں ہونا چاہیے لیکن وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ایسا ہوا ہے۔

اس سے پہلے افغانستان کے صوبے ہلمند میں برطانوی فوج کے کمانڈر بریگیڈیئر مارک کارلٹن سمتھ نے کہا تھا کہ برطانیہ کو افغانستان میں فیصلہ کن جیت کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔

بریگیڈیئر مارک کارلٹن سمتھ نے برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز کو انٹرویو میں کہا تھا کہ افغانستان میں اس مشن کا مقصد افغان فوج کو اس قابل بنانا تھا کہ وہ اپنے طور پر ملک کا انتظام سنبھال سکے۔

اسی بارے میں
افغانستان: چار فوجی ہلاک
17 September, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد