طالبان سے مذاکرات مشکلات کیا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اخبارات میں اس پر بحث جاری ہے اور افغان حکام اور غیر ملکی سفارت کار بھی اس پر بات کر رہے کہ کیا طالبان سے مذاکرات ہونے چاہیں؟ افغان صدر حامد کرزئی کے بھائی نے بی بی سی کی اس رپورٹ کی تصدیق کر دی ہے کہ وہ طالبان سے مذاکرات شروع کرنے کے لیے پہلے قدم کے طور پر گزشتہ ہفتے سعودی عرب میں ماضی میں طالبان تحریک سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں سے ملے تھے۔ افغانستان میں گزشتہ سات برس سے لڑائی جاری ہے اور ہر اعتبار سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ حالات بگڑتے چلے جا رہے ہیں اور ان میں کوئی کمی واقع نہیں ہو رہی۔ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں بلاشبہ ایک واضح تبدیلی نظر آ رہی ہے اور یہ خیال زور پکڑتا جا رہا ہے کہ تشدد کے نہ ختم ہونے والے سلسلے کو روکنے کے لیے بنیاد پرست اسلامی تحریک طالبان سے مفاہمت بہت ضروری ہے۔ مشکل یہ ہے کہ اگر طالبان کے ساتھ واقعی براہ راست مذاکرات شروع ہو جاتے ہیں تو عملاً اس کا مطلب کن لوگوں سے بات کرنا ہوگا۔ طالبان کی اصطلاح تو ان تمام ہتھیار بند عناصر کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہے کہ جو موجودہ حکومت اور غیر ملکی فوجوں کے خلاف برسرے پیکار ہیں۔ حکومت مخالف قوتیں یا عناصر کسی ایک خاص دھڑے کا نام نہیں ہے۔ ان میں بہت سی مختلف الخیال قوتیں شامل ہیں جن کے مقاصد الگ الگ ہیں اور سوچیں جدا جدا ہیں۔ حکومت کی مخالفت وہ واحد نکتہ ہے جس پر یہ تمام قوتین متفق ہیں۔ طالبان اس شورش کا اہم حصہ یا سب سے بڑا عنصر ہیں۔ لیکن ان میں اور بھی بہت سے عناصر شامل ہیں۔ جن میں سب سے زیادہ معروف القاعدہ ہے۔
اس کے علاوہ حزب اسلامی کے لوگ بھی ہیں جن کی قیادت سابق مجاہدین رہنما گل بدین حکمت یار کرتے ہیں اور جلال الدین حقانی کا گروہ بھی ہے جس کے ارکان کابل میں بھارتی سفارت خانے پر ہونے والے بم حملے میں مبینہ طور پر ملوث تھے۔ اس تشدد کو ختم کرنے کے لیے ان تمام عناصر اور گروپوں سے بات کرنا ہو گی اور صرف طالبان سے مذاکرات کرنا کافی نہیں ہو گا۔ یہ ایک ناممکن سی بات ہے کیونکہ ہر کوئی اس بات پر متفق ہے کہ آپ القاعدہ سے بات نہیں کر سکتے۔ لیکن اگر صرف طالبان سے بات کی جائے اور تحریک سے کوئی مفاہمت ہو جائے تو ملک میں جاری تشدد کو کافی حد تک کم کرنے میں کامیابی ہو سکتی ہے۔ تحریک طالبان ملک کے جنوبی علاقوں میں کافی اثرو رسوخ رکھتی ہے جہاں پر پختون قوم پرستی کا جذبہ بہت شدید ہے اور یہی تحریک طالبان کو تقویت دیتا ہے۔ تاہم طالبان کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات سہل نہ ہوں گے۔ تحریک طالبان کے رہنما ملا عمر نے متعدد مرتبہ یہ مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان میں موجود ستر ہزار کے قریب غیر ملکی فوجی ملک سے نکل جائیں۔
افغان صدر حامد کرزئی اس پر کبھی بھی رضامند نہیں ہوں گے کیونکہ اس کا مطلب ان کی اپنی سیاسی موت ہو گا۔ ان کی حکومت برقرار نہیں رہ سکے گی اور اس بات کا خدشہ بھی موجود ہے کہ طالبان ملک کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیں۔ اس کے علاوہ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ پھر آپ اس تحریک میں شامل کس سے بات کریں؟ کیا یہ ممکن ہے کہ آپ تحریک کی اعلیٰ قیادت سے بات کر سکیں؟ اور کسی ایسے معاہدے پر پہنچنے کے لیے جسے عملی جامہ بھی پہنایا جا سکے ان لوگوں کی اس معاہدے میں شمولیت بہت ضروری ہو گی۔ ایک اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی طالبان مذاکرات کے لیے تیار ہو جائیں گے؟ ان کے نکتہ نگاہ سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ صورت حال ان کے حق میں جا رہی ہے۔ ملک میں شورش بڑھتی جا رہی ہے اور حکومت کو بہت کمزور، بدعنوان اور بے اثر تصور کیا جاتا ہے۔ بہت سے افغان اس کے مقابلے میں طالبان کو قبول کرنا پسند کریں گے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ گزشتہ سات برس سے انتہائی نامساعد حالات میں زندگی گزارنے والے طالبان کے چند سرکردہ رہنماؤں کو اس بات پر قائل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن بہت سے افغان حامد کرزئی کی اس مذاکرات والی بات کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان کے خیال میں حامد کرزئی آئندہ برس اپنے انتخاب سے قبل پختونوں میں اپنی جگہ بنانا چاہتے ہیں۔ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ طالبان سے مذاکرات شروع کرنے سے آپ بہت سے دوسرے افغان گروہوں کو علیحدہ کر دیں گے۔
افغانستان کے مختلف علاقائی گروہوں میں شدید دشمنیاں پائی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر ملک کے شمالی علاقوں سے تعلق رکھنے والے تاجک اور ازبک جو انیس سو نوے کے عشرے میں طالبان سے برسرے پیکار رہے اور پھر مغربی فوجوں کے مدد سے انہوں نے طالبان کی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ شمالی اتحاد جیسا کے اس وقت اسے نام دیا جاتا تھا موجودہ حکومت میں کافی مضبوط ہے اور وہ طالبان کے حکومت میں شامل کرنے کی بات کو آسانی سے ہضم نہیں کر سکیں گے۔ اور اس کا نتیجہ یہ بھی نکل سکتا ہے کہ وہ اس حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھا لیں جس میں طالبان شامل ہوں۔ طالبان سے مذاکرات کرنے کی بات پر بیشک غور کیا جا رہا ہو لیکن اس پر ابھی کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ ابھی یہ بھی واضح نہیں ہے کہ آیا حکومت نے طالبان سے بات چیت کے لیے کوئی واضح حمکت عملی تیار کر لی ہے۔ اکثر افغان لوگ کا خیال ہے کہ یہ شورش ابھی کافی عرصے تک چلتی رہے گی اور جلد کسی مفاہمت کے ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||