افغان شہری ناامیدی کاشکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں سات برسوں سے بھی زیادہ سے جاری خون خرابے اور اربوں ڈالر خرچ کیے جانے کے بعد یہ سوال پوچھنا غیر مناسب نہیں ہوگا کہ آخر ملک صحیح سمت میں رواں ہے یا پھر غلط راستے پر چل رہا ہے۔ بی بی سی کے ایک حالیہ جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ اس بارے میں افغانیوں کی رائے پوری طرح منقسم ہے۔ جن لوگوں سے اس بارے میں سوال کیا گیا ان میں سے چالیس فیصد کا کہناہے کہ ملک صحیح سمت میں جارہا ہے لیکن اس سوچ میں پہلے سے کافی کمی آئی ہے کیونکہ تین برس قبل ایسا ماننے والوں کی تعداد تقریبا اسّی فیصد تھی۔ ظاہر ہے اس سوچ میں کمی پر بیشتر لوگوں کو تشویش ہوگي۔ لیکن افغان حکومت اور عالمی برادری کافی دنوں سے یہ بات کہتی رہی ہیں کہ حالات تیزی سے بہتر ہورہے ہیں اور یہ کہنے کے لیے بہت سے ثبوت بھی ہیں۔ میں نے امریکہ کی قیادت والی جنگ کے دوران پہلی بار سنہ دو ہزار ایک میں افغانستان کا دورہ کیا تھا اور تب شمال مشرقی علاقے سے کابل کے مضافات تک سفر کرنے میں مجھے چھ روز لگے تھے۔ صرف چند سو کلومیٹر کا سفر چھ روز میں۔ اس وقت سڑکیں بنی ہوئی نہیں تھیں اور جو تھیں وہ سب بارود کے دھماکوں سے ٹوٹ گئی تھیں۔ بجلی، فون، پینے کا پانی کچھ نہیں تھا اور لوگوں کے پاس روزگار بھی نہیں تھا۔ کوئی سرمایہ کاری نہیں تھی اور ان حالات میں بہتری کی بھی کوئی امید نہیں تھی۔ لیکن حال ہی میں شمالی شہر مزار شریف کی طرف جانے سے ملک کی تصویر بالکل بدلی ہوئی دکھی۔ ہم پہلے سے بہتر روڑ پر چلے اور جگہ جگہ کھمبے نظر آئے جو کابل کو بجلی پہنچانے کے لیے نصب کیے گئے تھے۔ بازار میں دکانیں پھل اور سبزیوں سے بھری ہوئی تھیں، نئے سکول اور ہسپتال نظر آئے اور بڑے سائن بورڈ بھی لگے تھے جن پر بارودی سرنگوں کے ہٹائے جانے کے بارے میں معلومات درج تھیں۔ لیکن روئے زمین پر افغانستان اب بھی سب سے غریب ترین اور کم ترقی یافتہ ملکوں میں سے ایک ہے جہاں ماں باپ کو اپنے بچوں کو کھانا کھلانا اور کپڑے پہنانا تک مشکل ہوتا ہے۔
ملک میں خشک سالی سے حالات مزید خراب ہوئے ہیں۔ملازمتیں تو ہیں نہیں اس لیے بھوک کو مٹانے کے لیے زراعت ہی ایک اہم ذریعہ ہے۔ بدعنوانی بھی ایک اہم مسئلہ ہے اور لوگوں کو اس بارے میں بڑے شکوک و شبہات ہیں کہ آخر بیرونی ممالک سے آنے والی امدادی رقم کا کیا ہوا۔ قصبے کے ایک بازار میں ایک دکاندار نے یہ کہتے ہوئے ایک بڑی عام سی تشویش کا اظہار کیا کہ’ گرچہ ہمارے پاس بہت کچھ کھانے کا ہے لیکن لوگ اسے خریدنے کی طاقت نہیں رکھتے ہیں، اگر ہمارے پاس زیادہ مواقع اور نوکریاں ہوں تو زندگی مزید بہتر ہو سکتی ہے۔‘ ایک تاجر نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر مجھے یہ بھی بتایا کہ کسی طرح وہ دن میں تقریباً چھ ڈالر کماتے ہیں لیکن اس میں سے انہیں ایک ڈالر پولیس کو ہر روز بطور رشوت دینا پڑتا ہے۔ ’ آخر حکام اسے کیوں نہیں روک سکتے، میں یہ رشوت دینے لائق نہیں ہوں اور برائے مہربانی ہماری اس آواز کو اٹھائیے۔‘ ملک کے دیگر حصے جیسے بیشتر جنوبی علاقے اور مشرق و مغرب میں لوگوں کو زیادہ تر تشدد اور اپنے تحفظ کی تشویش لاحق ہے۔
وردک صوبے کا دارالحکومت کابل سے تھوڑے ہی فاصلے پر واقع ہے لیکن اس طرف جانے کے لیے پولیس کی سکیورٹی لے جانا ہی بہتر ہے۔ اس کے آس پاس کے دوسرے صوبوں میں بھی شورش اور جرائم میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ وردک کےگورنر حلیم فیدی سے جب میں نے یہ پوچھا کہ کیا اس علاقے کے بعض علاقے طالبان کے کنٹرول میں ہیں تو انہوں نے غصے میں جواب دیا کہ’ اگر خون بہتا ہے تو پھر بات آگے بھی بڑھتی ہے۔‘ حلیم فیدی کا تاثر یہ تھا کہ میڈیا بری خبروں کی تشہیر کر کے ورداک کی ترقی کو کم دبانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اس صوبے میں امریکہ نے اب پندرہ ہزار اضافی فوج بھیجی ہے اور پولیس میں بھرتی ہوئے مقامی لوگوں کی بھی ٹریننگ چل رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ سبھی گورونر کی رائے سے متفق نہیں ہیں اور لگتا یہ ہے کہ آنے والے موسم بہار میں طالبان کے خلاف محاذ آرائی کے لیے زبردست تیاری ہورہی ہے۔ مقامی بازار سےگورنر کی رہائش پاس میں ہی ہے لیکن بازار میں زبردست پولیس کا پہرہ ہے۔ایک شخص کا کہنا تھا کہ’ لوگ بہت فکر مند ہیں انہیں سکیورٹی چاہیے تاکہ وہ اپنےگھر اور گاؤں سے بغیر خوف نکل سکیں اور رات میں سکون کی نیند سو سکیں۔‘ بی بی سی کے سروے میں یہ بھی پتہ چلا کہ بہت سے لوگ بیرونی فوجوں کی موجودگی کو قطعی پسند نہیں کرتے۔ ایک شخص کا کہنا تھا’یہ بہت واضح ہے کہ افغان انہیں اپنے ملک میں قطعی نہیں چاہتے چاہے وہ جس کام کے لیے بھی یہاں ہوں، کچھ لوگ ان کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ وہ حکومت کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں لیکن عام آدمی انہیں پسند نہیں کرتا۔‘ امریکہ کے ہزاروں اضافی فوجی افغانستان پہنچنے والے ہیں اور موسم گرما میں صدارتی انتخابات بھی ہوں گے ایسے میں بہتر نتائج کے لیے زبردست دباؤ ہے۔ بی بی سی کے جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ افغان شہری اب نا امیدی کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔ کچھ بہت ترقی تو ضرور ہوئی ہے لیکن جب تک عالمی برادری حقیقی معنوں میں وہاں امن اور حوشحالی کے لیے کام نہیں کرتی ہے افغانستان میں اس کا مشن خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ | اسی بارے میں عراق کی تعمیر نو کا تلخ تجربہ04 February, 2009 | آس پاس افغانستان، نیٹواور امریکہ میں تفریق27 January, 2009 | آس پاس پاکستان، افغانستان کے لیے ایلچی مقرر22 January, 2009 | آس پاس افغانستان، کیا حالات بدلیں گے؟20 January, 2009 | آس پاس کابل کے قریب بتیس طالبان ہلاک 07 January, 2009 | آس پاس ہلمند، برطانوی فوجی ہلاک02 January, 2009 | آس پاس طالبان حملہ، 20 پولیس اہلکار ہلاک01 January, 2009 | آس پاس طالبان کے خلاف نئی حکمت عملی01 January, 2009 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||