طالبان کے خلاف نئی حکمت عملی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے افغانستان میں طالبان کا مقابلہ کرنے کے لیے مقامی ملیشیائیں تشکیل دینے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ برطانوی روزنامہ دی گارڈین کے مطابق یہ ایک متنازع منصوبہ ہے اور یہی حکمت عملی امریکہ نے عراقی مزاحمت کاروں کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی استعمال کی تھی۔ اخبار کے مطابق کہنےکو تو یہ افغان حکومت کا منصوبہ ہے جسے امریکہ اور اقوام متحدہ کی حمایت حاصل ہوگی لیکن اس کے محرک امریکی فوجی کمانڈر بتائے جاتے ہیں جو عراق کے تجربات اب افغانستان میں اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ امریکہ نے عراق میں سنی ملیشیائیں تشکیل دی تھیں جوالقاعدہ اور عراقی مزاحمت کاروں کے خلاف لڑائی میں مددگار ثابت ہوئیں۔ یہ حکمت عملی جنرل ڈیوڈ پٹرئیس نے وضع کی تھی جو اب سنٹرل کمان کے سربراہ ہیں اور افغانستان کی جنگ بھی انہیں کی سربراہی میں لڑی جارہی ہے۔ افغانستان میں امریکی ایلچی ولیم وڈ کے مطابق یہ منصوبہ آزمائش کے طور پر پہلے جنوبی افغانستان میں شروع کیا جائے گا اور اس کا مقصد’مقامی آبادیوں کو مضبوط کرنا ہے تاکہ وہ ان علاقوں کا دفاع کرسکیں جنہیں وہ اپنا روایتی گھر مانتی ہیں۔‘ برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن نے بھی گزشتہ برس اسی نوعیت کی ایک تجویز پیش کی تھی لیکن ایک امریکی فوجی کمانڈر نے اس وقت یہ کہتے ہوئے اس پر تنقید کی تھی کہ اس منصوبے سے پولیس کا کام متاثر ہوگا۔ لیکن اخبار کے مطابق یہ واضح ہوجانے کےبعد کہ نیٹو اور افغان افواج کے لیے شاید مل کر بھی طالبان کو شکست دینا ممکن نہ ہو، امریکی فوجی کمانڈروں نے اپنے اعتراض ترک کر دیا ہے۔ ولیم وڈ کے مطابق طالبان نے سن دو ہزار آٹھ میں دو ہزار بم دھماکے کیے جو گزشتہ برس کے مقابلے میں دوگنا تھے۔ اسی طرح اغوا کے واقعات 150 سے بڑھ کر تین سو تک پہنچ گئے۔ اخبار کے مطابق برطانیہ اس نئے منصوبے کے حق میں ہے لیکن کینیڈا کے وزیر دفاع پیٹر میکے نے کہا کہ ’یہ منصوبہ متنازع ہے اور ہم اس میں شامل نہیں ہوں گے۔ ہم افغان فوج کی تربیت جاری رکھنے کے حق میں ہیں تاکہ ایک پیشہ ورانہ فوج تشکیل دی جاسکے۔‘ مسٹر میکے کے مطابق اس منصوبے پر ان ممالک نے غور و خوض کیا ہے جنہوں نے نیٹو کے پرچم تلے اپنے فوجی افغانستان بھیجے ہیں لیکن اس پر اتفاق نہیں ہوسکا۔
منصوبے کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس سے قبائلی اختلافات میں اضافہ ہوگا، جنگجو سرداروں کی طاقت بڑھے گی اور فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ ہوگا۔ لیکن امریکہ کا کہنا ہے کہ ان’ کمیونٹی گارڈز‘ کا انتخاب مقامی شوراؤں کے ذریعہ کیا جائے جو نسلی توازن کی عکاسی کرتی ہیں۔ وڈ نے کہا کہ ایک مرتبہ گروپ کا انتخاب ہوجانے کے بعد اسے تربیت اور ساز و سامان فراہم کیا جائے گا۔ انہیں امریکہ پیسہ بھی دےگا۔ لیکن امریکی افسران کے مطابق وہ بندوقیں فراہم نہیں کریں گے۔ اخبار کہتا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ رضاکار یا تو اپنا اسلحہ استعمال کریں گے یا انہیں افغان حکومت مسلح کرے گی۔ جن علاقوں میں پراجیکٹ کی آزمائش ہوگی ان میں وردک صوبہ بھی شامل ہے | اسی بارے میں افغانستان کے لیے 30 ہزار مزید فوج20 December, 2008 | آس پاس جرمنی: مزید فوج بھیجنے سے انکار02 February, 2008 | آس پاس افغانستان کے لیے مزید فوج کا مطالبہ01 February, 2008 | آس پاس ’نیٹو افغان جنگ ہار بھی سکتی ہے‘19 January, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||