عراق کی تعمیر نو کا تلخ تجربہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں عراق کی تعمیر نو کے اخراجات کی تحقیقات پر مبنی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراق میں ترقیاتی کاموں کے نام پر اب تک خرچ ہونے والے کل اکاون ارب ڈالر کا بڑا حصہ فراڈ، زیاں اور غلط استعمال کی نذر ہو گیا ہے۔ اس رپورٹ کو جسے ’ہارڈ لیسن‘ یا تلخ سبق کا عنوان دیا گیا ہے عراق کی تعمیر نو کے انسپیکٹر جنرل سٹیورٹ بوؤن نے کانگرنس کے سامنے پیش کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراق کی تعمیر نو کی رقم کا بڑا حصہ بغیر کسی سرکاری کنٹرول کے امریکی ٹھیکہ داروں کو جاری کیا گیا جو کہ بڑے پیمانے پر بدعنوانیوں اور فراڈ کا باعث بنا اور عراق کی تعمیرنو پر بہت کم پیش رفت ہو سکی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ کو عراق میں جو تلخ تجربہ ہوا ہے اسے اب افغانستان میں دھرایا جا رہا ہے۔ سٹیورٹ بوؤن نے اس رپورٹ میں جس کو مرتب کرنے میں مدد دینے کے لیے انہوں نے عراق کے اکیس دورے کئے جا بجا زیاں، فراڈ اور غلط استعمال کے الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے۔ کانگرس کے سامنے اس رپورٹ کی توثیق کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’اس کا سب سے بڑا سبق، جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں، یہ ہے کہ امریکہ کی حکومت کے پاس نہ وہ ڈھانچہ تھا اور نہ ہی وسائل کہ وہ اتنا بڑا ہنگامی امداد اور تعمیر نو کا منصوبہ شروع کر سکے جیسا کہ اس نے عراق میں دو ہزار تین میں کیا۔‘ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو عراق پر جنگ شروع کرنے سے پہلے لگائے گئے اندازوں سے پچیس گنا زیادہ رقم خرچ کرنا پڑی۔ عراق پر حملے سے پہلے ماہرین نے اندازہ لگایا تھا کہ ملک کی تعمیر نو کے لیے ڈھائی ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ تعمیر نو کے انسپکٹر جنرل نے مزید کہا کہ کچھ منصوبوں کو کامیابی سے مکمل کر لیا گیا لیکن زیادہ تر منصوبے پر ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ رقم خرچ کی گئی اور ان پر عملددرآمد بھی مناسب انداز میں نہیں ہو سکا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ فالوجہ میں نکاسی آب کا ایک منصوبے جسے تین سال قبل مکمل ہو جانا تھا ستمبر تک مکمل نہیں ہو سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بھی بڑا پریشان کم امر یہ ہے کہ اس منصوبے میں لوگوں کے گھروں سےگندے پانی کو نکاسی آب کے پائیپوں سے جوڑے جانا شامل نہیں تھا۔ عراق پر ہونے والے اخراجات کی تحقیقات کرنے کے لیے یہ کمیشن ایک قانون ’وار ٹائم کنٹریکٹنگ‘ کے تحت ان ہی خطوط پر بنایا گیا تھا جیسا کہ دوسری جنگ عظیم میں سرکاری پیسہ کے زیاں کا پتا چلانے کے لیے ایک ادارہ قائم کیا گیا تھا۔
وار ٹائم کنٹریکٹنگ کا قانون پیش کرنے والے سینیٹر کلیئر میکیسکل نے کہا کہ ’اربوں ڈالر صاف ہو گئے اور ہر چیز کی پیسہ سے لے سازوسامان تک چوری ہوئی جن میں بھاری ساز وسامان سے لے کر بندوق بھی شامل تھیں۔‘ انہوں نے کہا ’تشویشناک بات یہ ہے کہ بندوقیں جو چرالی گئیں اور جن کے بارے میں فوجی وثوق سے بتا سکتے ہیں کہ چرائے جانے کے بعد یہ بیچی گئیں پھر ہمارے ہی فوجیوں کے خلاف استعمال ہوئیں۔‘ انہوں نے کہا ’اگر ہم اس کی جوابدہی نہیں کرتے تو پھر ہم ٹیکس دھندگان کے پیسے ضائع کرنے کے مسئلہ کو بڑھا رہے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ اس تجربے سے سبق سیکھا جانا ضروری ہے تاکہ یہ غلطیاں افغانستان میں نہ دھہرائی جائیں۔ سٹیورٹ بوؤن نے کہا کہ امریکہ نے افغانستان میں بتیس ارب ڈالر خرچ کر دیئے ہیں اور ابھی اور بھی خرچ کیئے جانے ہیں۔ انہوں نے عراق میں ابھی پانچ ارب ڈالر کے ٹھیکے دیئے جانے ہیں اور ابھی بھی اس سلسلے میں کچھ کیا جا سکتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||