عراق میں امداد کی ترسیل مشکل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے مطابق بغداد میں تشدد کا شکار ہونے والے لاکھوں افراد تک امداد پہنچانا عراقی امدادی ارکان کے لیے مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ شہر کے علاقے صدر سٹی میں شیعہ ملیشیا اور حکومتی افواج کے درمیان جھڑپیں شدید ہوتی رہتی ہیں۔ بچوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افراد کو صاف پانی، خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات تک رسائی آسانی سے حاصل نہیں ہے۔ عراقی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق حالیہ تشدد میں تقریباً ایک ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔ امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں تقریباً ساٹھ فیصد بچے اور خواتین ہیں۔ پچھلے سات ہفتوں سے عراقی افواج امریکی مدد سے شیعہ مسلح گروپوں کو غیر مسلح کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ تاہم انہیں سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ یونیسیف نے متنبہ کیا ہے کہ لاکھوں افراد خطرے میں ہیں کیوں انہیں اپنی برادریوں میں آزادی سے آنے جانے کی اجازت نہیں۔ اس کے علاوہ صاف پانی، خوراک اور دیگر ضروریات تک ان کی رسائی مسلح افراد، دھماکوں اور حملوں کی وجہ سے منقطع ہے۔ تشدد کے واقعات میں صاف پانی تک رسائی اور گندے پانی کے نکاس کے نظام بھی متاثر ہوئے ہیں، جس سے خطرناک بیماریاں پھیل سکتی ہیں۔ ہسپتالوں میں ادوایات اور ضروری طبی سامان کی کمی ہے جبکہ کئی طبی مراکز ارکان کی غیر موجودگی کی وجہ سے بند ہونے پر مجبور ہیں۔ یونیسیف نے ضرورت مندوں تک رسائی کا مطالبہ کرتے ہوئے متاثرہ علاقوں میں پانی کے ٹینکر اور طبی امداد پہنچانے پر زور دیا ہے۔ ایجنسی کے مطابق حالیہ بحران کا ایک تشویش ناک پہلو یہ بھی ہے کہ کچھ شیعہ مسلح گروپ اب بچوں کو بھی جنگ کی تربیت دے رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں ’عراقی قیدیوں کو انصاف دیں‘28 April, 2008 | آس پاس بغداد: کار بم حملہ، نو ہلاک 01 May, 2008 | آس پاس عراقی خاتون اول پر قاتلانہ حملہ04 May, 2008 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||