BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 January, 2008, 22:20 GMT 03:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’تین برس میں ڈیڑھ لاکھ عراقی ہلاک‘
عراقی ہلاکتیں(فائل فوٹو)
’مردوں کی ہلاکت کی ایک بڑی وجہ تشدد تھا‘
عراقی حکومت اور اقوامِ متحدہ کے ادارۂ صحت ڈبلیو ایچ او کے مشترکہ سروے کے مطابق سنہ 2003 میں امریکہ اور اتحادی افواج کے عراق پر حملے کے بعد تین برس سے زائد کے عرصے میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد عراقی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس حساب سے عراق میں امریکی جارحیت کے بعد سے روزانہ قریباً ایک سو بیس عراقیوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔

مارچ سنہ 2003 سے جون سنہ 2006 کے درمیان ہونے والے اس سروے میں عراق کے طول و عرض میں قریباً دس ہزار خاندانوں کے انٹرویو کیےگئے۔عالمی ادارۂ صحت کا ماننا ہے کہ اس سروے میں غلطی کا احتمال موجود ہے تاہم اس کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی صحیح تصویر صرف اسی صورت میں سامنے آ سکتی ہے جب ہلاک ہونے والے افراد کی رجسٹریشن کا جامع پروگرام شروع کیا جائے۔

عالمی ادارۂ صحت کے ماہرِ شماریات اور اس سروے کے شریک مصنف محمد علی کا کہنا ہے کہ’ شورش زدہ علاقوں میں ہلاکتوں کا تعین انتہائی مشکل کام ہوتا ہے اور اس سروے کے نتائج کے حوالے سے بھی محتاط رویہ اپنانا ضروری ہے‘۔

اس سروے کے مطابق ہلاک ہونے والے عراقیوں میں سے نصف بغداد میں مارے گئے اور ’عراقی بالغوں خصوصاً پندرہ سے انسٹھ برس کی درمیانی عمر کے مردوں کی ہلاکت کی ایک بڑی وجہ تشدد تھا‘۔

یاد رہے کہ امریکی فوج کی جانب سے آج تک عراق میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی کوئی مجموعی تعداد بیان نہیں کی گئی ہے جبکہ دیگر رپورٹوں میں ہلاکتوں کی تعداد میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔ سنہ دو ہزار چھ میں امریکی ڈاکٹروں نے ایک جائزے کے بعد عراقی شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد چھ لاکھ پچپن ہزار بتائی تھی۔

ادھر امریکی فوج کا کہنا ہے کہ عراق کے صوبے دیالہ میں ایک گھر میں ہونے والے دھماکے سے چھ امریکی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔اس دھماکے میں چار فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔

دو دن میں آپریشن کے دوران نو امریکی فوجی مارے جا چکے ہیں

فوجی حکام کی جانب سے کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ ایک آپریشن کے دوران پیش آیا اور اس کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔امریکی اور عراقی فوجیوں نے بغداد کے شمالی علاقے میں دیالہ سمیت چار صوبوں میں القاعدہ اور اس کی حمایت یافتہ تنظیموں سے تعلق رکھنے والے مزاحمت کاروں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کر رکھا ہے۔

اس سے قبل امریکی فوج نے منگل کو صلاح الدین نامی صوبے میں آپریشن کے دوران اپنے تین فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔ فوجی حکام کے مطابق یہ فوجی ہلکے ہتھیاروں کی فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوئے تھے۔

عراقی بچے(فائل فوٹو)بھوکے اور بیمار بچے
’عراقی جنگ کی بڑی قیمت ادا کر رہے ہیں‘
عراقی مہاجرینگھروں کو واپسی
’ہزاروں ملک بدر عراقی واپس آ رہے ہیں‘
عراقی مہاجرینعراقی مہاجرین
اردن میں بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد
عراقی بچے عراقی بچوں کا المیہ
عراق میں بقا کی جنگ لڑتے یتیم بچے
امریکی فوجی’تشدد کرنا جائز ہے‘
’امریکی فوجی عراقیوں پر تشدد کے حامی‘
ہجرت پر مجبور
ہر ماہ پچاس ہزار عراقی ہجرت پر مجبور
پناہ گزین بچہ بڑھتے ہوئے مصائب
عراقی پناہ گزین جائیں تو کہاں جائیں؟
اسی بارے میں
عراق میں تیس لاشیں برآمد
18 November, 2007 | آس پاس
امریکی فوجیوں کو چھٹی نہیں
20 September, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد