BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 01 December, 2007, 13:19 GMT 18:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق: حملے میں 14 افراد ہلاک
عراق (فائل فوٹو)
مقامی افراد کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں چار خواتین اور تین بچے بھی شامل ہیں
عراق میں حکام کا کہنا ہے کہ بعقوبہ کے قریب ایک گاؤں میں شدت پسند تنظیم القاعدہ کے مزاحمت کاروں کے ایک حملے میں کم از کم چودہ شیعہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ 60 مسلح افراد نے بعقوبہ سے اٹھارہ کلومیٹر شمال میں واقع الدويليہ کے ایک دیہات پرحملہ کیا۔ ہلاک ہونے والوں میں چار خواتین اور تین بچے بھی شامل ہیں جبکہ مقامی افراد نے بتایا ہے کہ حملے میں کم از کم آٹھ دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

مسلح دیہاتیوں نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے چار مزاحمت کاروں کو ہلاک کردیا۔ مقامی افراد اور حکام کے مطابق الدويليہ کے اس دیہات پر حملہ سنیچر کو مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے کیا گیا۔ دیہات میں شیعہ باوی قبیلے کے افراد کی اکثریت ہے۔ یہاں مسلح افراد کے حملے سے قبل ماٹر راؤنڈ فائر کیے گئے۔ مزاحمت کارروں کے حملے میں دس مکانات تباہ ہو گئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بعد ازاں مسلح دیہاتیوں کی جوابی کارروائی میں القاعدہ کے چار مسلح حملہ آور مارے گئے ہیں۔

تازہ حملہ ان اعداد وشمار کے سامنے آنے کے بعد پیش آیا ہے جن کے مطابق بم دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات میں عراقی شہریوں کی ہلاکت کی تعداد میں مسلسل کمی آرہی ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عراق کی وزارتِ داخلہ، دفاع اور صحت کے جمع کردہ اعداد و دشمار ظاہر کرتے ہیں کہ ستمبر میں 840 اور اکتوبر میں 887 کے مقابلے میں نومبر میں 606 افراد ہلاک ہوئے۔

نامہ نگاروں کے مطابق بغداد اور اطراف میں امریکی فوجی دستوں کی تعداد میں اضافے سے امن و امان کی صورت حال میں بہتری آئی ہے

اگر ان اعداد وشمارکی تصدیق ہوگئی تو گزشتہ سال فروری کے بعد سے ہلاکتوں کی یہ سب سے کم تعداد ہوگی جب سمارا میں ایک شیعہ مزار پر حملے کے بعد ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد کے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

نامہ نگاروں نے تشدد کے واقعات میں حالیہ کمی کا سبب فروری میں بغداد اور اطراف میں امریکی اور عراقی فوجی دستوں کی تعداد میں اضافے اور سنی مسلح گروہوں اور امریکہ کے درمیان تعاون کو قرار دیا ہے۔ دیگر اہم عناصر میں شیعہ شدت پسند رہنما مقتدی الصدر کی مہدی آرمی کی کارروائیوں میں تعطل اور بعض سنی عرب قبائل کی جانب سے القاعدہ کی مخالفت خیال کیے جا رہے ہیں۔

جولائی میں الدويليہ میں اسی طرح ہی کے ایک اور حملے کے دوران القاعدہ سے تعلق رکھنے والے افراد نے پچیس افراد کو باندھ کر گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔

مذکورہ دیہات عراق کے دیالہ صوبے میں واقع ہے جہاں سنہ 2003 میں عراق پر امریکی فوج کے قبضے کے بعد متعدد پر تشدد واقعات رونما ہوئے ہیں۔

’تباہی کے دہانے پر‘
عراق تقسیم کی جانب جا رہا ہے: تھِنک ٹینک
امریکی فوجی’تشدد کرنا جائز ہے‘
’امریکی فوجی عراقیوں پر تشدد کے حامی‘
 عراق ’کامیابی پر واپسی‘
عراق فوجیوں کی واپسی اعلان یا صرف دکھاوا؟
اسی بارے میں
عراق میں تیس لاشیں برآمد
18 November, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد