BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 16 September, 2007, 00:10 GMT 05:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق: صدر بلاک حکومت سےعلیحدہ
مقتدیٰ الصدر
مقتدیٰ الصدر کے حامی پانچ ماہ قبل کابینہ سے علیحدہ ہو گئے تھے
عراق کے قدامت پسند شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر کی وفادار سیاسی تحریک نے برسرِ اقتدار شیعہ اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے۔

اس اعلان سے وزیرِ اعظم نور المالکی کی اتحادی حکومت میں تیس ووٹوں کی کمی ہو جائے گی اور پارلیمان میں ان کے پاس صرف آدھی نشستیں رہ جائیں گی۔

بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار ہیو سائکس لکھتے ہیں کہ وہ یعنی مقتدیٰ الصدر بلاک کے وفادار ممبر پارلیمان پہلے صرف اس کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں لیکن اب انہوں نے یہ کر دکھایا ہے۔

مقتدیٰ الصدر بلاک نے حکومت سے علیحدگی کا اعلان نجف کے مقدس شہر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ پانچ ماہ قبل مقتدیٰ الصدر نے اپنے وزراء بھی عراقی کابینہ سے علیحدہ کر لیے تھے۔

عراق کے برسرِ اقتدار شیعہ اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے مقتدیٰ الصدر بلاک نے کہا کہ وزیرِ اعظم ان سے اہم فیصلوں کے وقت مشورہ نہیں کرتے۔

وزیرِ اعظم نور المالکی
وزیرِ اعظم نور المالکی پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ اہم امور میں ممبران سے مشورہ نہیں کرتے

اس کے علاوہ صدر بلاک نے جن ناراضگیوں کا ذکر کیا ان میں عراق سے امریکی فوجیوں کی واپسی کے نظام الاوقات کی کال بھی ہے جسے وزیرِ اعظم نے نظر انداز کر دیا تھا۔

اگست میں اہم سنی اتحاد نے بھی کابینہ سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ اس طرح اب کابینہ میں صرف سترہ وزرا رہ گئے ہیں جبکہ وزراء کے کئی قلم دان خالی ہیں۔

نورالمالکی کے وزیرِ اعظم بننے میں بھی مقتدیٰ الصدر کی حمایت کا کافی عمل دخل تھا۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے اگرچہ یہ ایک اہم پیش رفت ہے لیکن اسے بحران نہیں کہا جا سکتا۔ ان کے مطابق نورالمالکی پر اگرچہ مشکل وقت ہے لیکن وہ دوسرے گروہوں کی حمایت سے بھی اقتدار میں رہ سکتے ہیں۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق برسرِ اقتدار شیعہ اتحاد سے علیحدگی کا یہ قدم مقتدیٰ الصدر کی منقسم ملیشیا پر کنٹرول کرنے کی ایک کوشش ہے۔

دریں اثناء جمعہ کو وائٹ ہاؤس کی طرف سے امریکی کانگریس کو بھیجی گئی ایک رپورٹ میں عراقی حکومت پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ شیعہ اور سنی عربوں کے درمیان مفاہمت کرانے کے لیے کوئی قوانین منظور کرانے میں ناکام رہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد