عراق:پندرہ شہریوں سمیت 34 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ بغداد کے شمالی علاقے میں ایک فضائی اور زمینی آپریشن کے دوران انیس مشتبہ مزاحمت کار اور نو بچوں سمیت پندرہ شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔ فوج کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ آپریشن ثرثار کے علاقے میں القاعدہ کے سینئر رہنماؤں کی موجودگی کی اطلاع پر کیا گیا۔ بیان کے مطابق ابتدائی فضائی حملے میں چار مزاحمت کار مارے گئے جس کے بعد زمینی فوج کی حفاظت کے لیے بھی مزید فضائی حملے کیے گئے جن سے پندرہ مزاحمت کاروں کے علاوہ چھ عورتیں اور نو بچے بھی مارے گئے۔ فوج کے مطابق ابتدائی حملے کے بعد مشتبہ افراد کو ثرثار جھیل کے جنوب کی جانب فرار ہوتے دیکھا گیا جس پر زمینی فوج نے کارروائی کی اور فضائیہ نے ان کی مدد کی۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کارروائی میں ایک عورت، تین بچے اور تین مزاحمت کار زخمی بھی ہوئے ہیں۔ عراق میں کثیر الملکی فوج کے میجر بریڈ لیٹن کا کہنا ہے کہ’ ہمیں افسوس ہے کہ عراق کو دہشتگردی سے پاک کرنے کے حوالے سے ہونے والی اس کارروائی میں عام شہری بھی ہلاک یا زخمی ہوئے‘۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ’دہشتگرد جان بوجھ کر معصوم بچوں اور عورتوں کی جانیں خطرے میں ڈالتے ہیں‘۔ | اسی بارے میں عراق میں دو دھماکے، 19 ہلاک09 October, 2007 | آس پاس نجی محافظوں کی فائرنگ، دو ہلاک09 October, 2007 | آس پاس عراق:’شہریوں پر فائرنگ بلاجواز‘08 October, 2007 | آس پاس عراق: شیعہ رہنماؤں میں امن معاہدہ07 October, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||