عراق: شیعہ رہنماؤں میں امن معاہدہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے دو سب سے بااثر شیعہ رہنماؤں نے باہمی اختلافات دور کرتے ہوئے ایک دوسرے کے خلاف تشدد کی کارروائیاں بند کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔ شدت پسند مقتدیٰ الصدر اور سپریم اسلامک کونسل آف عراق کے سربراہ عبدالعزیز الحکیم کےگروہ کئی ماہ سے ایک دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے تصادم کی پالیسی ختم کرنے اور بہتر تعلقات کے لیے ملک بھر میں مشترکہ کمیٹیاں بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں جنوبی عراق میں ہونے والے بعض حملوں کو شیعہ گروہوں میں دشمنی کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کا مقصد اسلامی اور قومی مفاد کا تحفظ ہے۔ مقتدیٰ الصدر کے ایک ترجمان کے مطابق ’معاہدہ لازمی طور پر احترام کا ایک عہدنامہ ہے، جس کا سب سے اہم پہلو ہے کہ یہ فریقین کو باہمی خون خرابے اور دوسرے عراقیوں کے خلاف کارروائی سے روکے گا۔‘
عبدالعزیزالحکیم کے ترجمان کا کہنا تھا ’عراق کو گروہوں کے درمیان معاہدوں کی ضرورت ہے تاکہ عراقی اتحاد کو بڑھایا اور محفوظ کیا جا سکے۔‘ دونوں رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کے گروہ ایک دوسرے کے ساتھ ثقافت اور ذرائع ابلاغ کے میدان میں بھی تعاون کرینگے۔ بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار جان برین کا کہنا ہے کہ اگر معاہدے پر کامیابی کے ساتھ عملدرآمد ہوا تو کئی ایسے تنازعات حل کرنے میں مدد ملے گی جن سے عراق میں مفاہمت کا عمل مشکل سے دوچار ہے۔ عبدالعزیزالحکیم کی سپریم اسلامک کونسل عراق کی مخلوط حکومت میں شامل ایک بڑی جماعت ہے جبکہ مقتدیٰ الصدر عراق میں امریکی مداخلت کے بعد ایک نمایاں رہنماء کے طور پر سامنے آئے اور وہ طاقتور مہدی آرمی کی قیادت کرتے ہیں۔ |
اسی بارے میں سرگرمیوں کی معطلی کا خیرمقدم01 September, 2007 | آس پاس ’قابض فوجوں پر حملے معطل نہیں‘31 August, 2007 | آس پاس مقتدیٰ الصدر کئی ماہ بعد دیکھے گئے 25 May, 2007 | آس پاس عراق میں امن کے لیے مذاکرات26 February, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||