BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 01 September, 2007, 17:18 GMT 22:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرگرمیوں کی معطلی کا خیرمقدم
#سرگرمیوں کی معطلی کا مطلب اغواء اور قتل کی کم وارداتیں اور حملوں میں کمی ہے‘
امریکی فوج نے عراق کے ریڈیکل شیعہ رہنما مقتدی الصدر کی جانب سے چھ ماہ تک مہدی آرمی کی سرگرمیاں معطل کرنے کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔

بدھ کو مقتدی الصدر نے کہا تھا کہ وہ مہدی آرمی کی سرگرمیاں اگلے چھ ماہ کے لیے معطل کر رہے ہیں اور اس دوران میلشیا گروپ کو از سرِ نو منظم کیا جائے گا۔

اعلان کے تین دن بعد جاری کیے جانے والے ایک بیان میں امریکی فوجی کمانڈروں کا کہنا ہے کہ اگر سرگرمیاں معطل رہتی ہیں تو اس دوران اتحادی افواج کو عراق میں القاعدہ سے نمٹنے کا موقع ملے گا۔

بیان کے مطابق سرگرمیوں کی معطلی کا مطلب اغواء اور قتل کی کم وارداتیں اور حملوں میں کمی ہے۔

اگرچہ امریکی فوج کی جانب سے مقتدٰی الصدر کے بیان کا خیرمقدم کیا گیا ہے لیکن خود مقتدی الصدر کے ایک نائب نے اس خبر کی تردید کی ہے کہ ان کی مہدی آرمی امریکی اور عراق میں موجود دیگر غیر ملکی افواج پر حملے معطل کر رہی ہے۔

مقتدی الصدر کے نائب احمد شیبانی کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ امریکی فوج کے خلاف کارروائی روک دی گئی ہے۔ تاہم جمعہ کو احمد شیبانی کا کہنا تھا: ’ہم نے اس قسم کا کوئی بیان نہیں دیا ہے۔ لیکن ذرائع ابلاغ نے میرے حوالے سے وہ کچھ منسوب کیا ہے جو میں نے کبھی نہیں کہا۔میرے بیان میں عراق میں قابض قوتوں کے خلاف کارروائی روکنے کی کوئی بات نہیں ہوئی تھی‘۔

امریکی ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے متضاد بیانات عراق میں حالات کی بہتری کا ناکام بنانے کی کوشش ہیں۔

بدھ کو اس اعلان کے بعد تجزیہ نگاروں کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے مقتدی الصدر تیزی سے منقسم ہوتی ہوئی اپنی میلشیا کو پھر سے کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔

اس سال اپریل میں امریکی محکمۂ دفاع نے مہدی آرمی کو عراق کی سکیورٹی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔ محکمۂ دفاع نے کہا تھا کہ مہدی آرمی نے القاعدہ تنظیم کی جگہ لے لی ہے اور یہ عراق میں فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ کرنے والی سب سے خطرناک تنظیم ہے۔‘

مہدی آرمی دو ہزار تین میں وجود میں آئی تھی اور اس وقت اس کے اراکین کی تعداد ساٹھ ہزار کے قریب ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ مہدی آرمی کو ایران نے تربیت دی ہے اور وہی اس کی مالی معاونت کرتا ہے اور اسے اسلحہ فراہم کرتا ہے۔
مہدی آرمی کو عراقی سکیورٹی افواج اور سنی مسلمانوں پر حملوں کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا جاتا ہے۔

شیعہ رہنما مقتدٰی الصدرمقتدٰی کی’روانگی‘
مہدی ملیشیا کے رہنما ’ایران چلے گئے‘
عبدل ظاہرہ’اللہ کے سپاہی‘
نجف میں ’امام مہدی‘ کے 200 پیروکار ہلاک
اسی بارے میں
عراق:’عالم سمیت 22ہلاک‘
23 August, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد