’قابض فوجوں پر حملے معطل نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے ریڈیکل شعیہ رہنما مقتدی الصدر کے ایک نائب نے اس خبر کی تردید کی ہے کہ ان کی مہدی آرمی امریکی اور عراق میں موجود دیگر غیر ملکی افواج پر حملے معطل کر رہی ہے۔ بدھ کو مقتدی الصدر نے کہا تھا کہ وہ مہدی آرمی کی سرگرمیاں اگلے چھ ماہ کے لیے معطل کر رہے ہیں اور اس دوران میلشیا گروپ کو از سرِ نو منظم کیا جائے گا۔عراقی حکومت نے مقتدی الصدر کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا تھا۔ خبروں کے مطابق مقتدی الصدر کے معاونین کا کہنا تھا کہ اس اعلان کا مطلب یہ ہے کہ مہدی آرمی اگلے چھ ماہ تک کسی قسم کا کوئی حملہ نہیں کرے گی اور امریکی فوج کو بھی نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ ان معاونین کے بقول اس اقدام کا مقصد مہدی آرمی سے ناپسندیدہ عناصر کا خاتمہ ہے۔ مقتدی الصدر کے نائب احمد شیبانی کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ امریکی فوج کے خلاف کارروائی روک دی گئی ہے۔ تاہم اب ان کا اصرار ہے کہ انہوں نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا۔ احمد شیبانی کا کہنا تھا: ’ہم نے اس قسم کا کوئی بیان نہیں دیا ہے۔ لیکن ذرائع ابلاغ نے میرے حوالے سے وہ کچھ منسوب کیا ہے جو میں نے کبھی نہیں کہا۔میرے بیان میں عراق میں قابض قوتوں کے خلاف کارروائی روکنے کی کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ گزشتہ روز کے اس اعلان کے بعد تجزیہ نگاروں کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے مقتدی الصدر تیزی سے منقسم ہوتی ہوئی اپنی میلشیا کو پھر سے کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔
ادھر عراقی وزیرِ خارجہ ہوشیار زباری نے کہا ہے کہ امریکی حکام اگلے ماہ کانگریس میں جو رپورٹ پیش کرنے والے ہیں اور جس سے بڑی امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں تو ان کے خیال میں یہ رپورٹ عراق کو درپیش مسائل کا کوئی طلسمی حل مہیا کرنے والی نہیں۔ اس سال اپریل میں امریکی محکمۂ دفاع نے مہدی آرمی کو عراق کی سکیورٹی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔ محکمۂ دفاع نے کہا تھا کہ مہدی آرمی نے القاعدہ تنظیم کی جگہ لے لی ہے اور یہ عراق میں فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ کرنے والی سب سے خطرناک تنظیم ہے۔‘ مہدی آرمی دو ہزار تین میں وجود میں آئی تھی اور اس وقت اس کے اراکین کی تعداد ساٹھ ہزار کے قریب ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ مہدی آرمی کو ایران نے تربیت دی ہے اور وہی اس کی مالی معاونت کرتا ہے اور اسے اسلحہ فراہم کرتا ہے۔ مہدی آرمی کو عراقی سکیورٹی افواج اور سنی مسلمانوں پر حملوں کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا جاتا ہے۔ |
اسی بارے میں عراق بم دھماکہ گورنر ہلاک11 August, 2007 | آس پاس ’عراق میں مقامی سطح پر پیش رفت‘ 18 August, 2007 | آس پاس عراق:’عالم سمیت 22ہلاک‘23 August, 2007 | آس پاس عراق:گورنر دھماکے میں ہلاک20 August, 2007 | آس پاس نجف میں جھڑپیں پانچ افراد ہلاک11 June, 2004 | آس پاس ’یرغمالی: مہدی آرمی ملوث نہیں ‘31 May, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||