BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 16 September, 2007, 13:25 GMT 18:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق : فوجیوں کی واپسی یا دکھاوا

جنرل ڈیوڈ پیٹرائس
عراق میں امریکی کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹرائس جن کے رپورٹ سے کانگریس نے اتفاق کیا ہے
تمام نقشوں، شہادتوں، بحث مباحثوں اور پینترے بازیوں کے بعد بھی یہ بڑا سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا عراق کے بارے میں امریکی پالیسی تبدیل ہونے کی رفتار میں کوئی تغیر دکھائی آیا ہے یا یہ تبدیلی کا محض دکھاوا ہے۔

صدر جارج ڈبلیو بش نے عراق سے کرسمس تک پانچ ہزار سات سو امریکی فوجیوں کو واپس بلانے کا جو اعلان کیا ہے کیا وہ فوجیوں کی حد سے زیادہ تھکاوٹ کے اعتراف کے علاوہ بھی کچھ ہے؟

یا یہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے استعمال کیے جانے والے اس ہفتے کے نئے محاورے، ’کامیابی پر واپسی‘ کے آخری لفظ کے تحت متعین کیے جانے وسیع تر محرکات کی جانب ایک اشارہ؟

اور صدر بش کے اس بظاہر بے حدود عزم کا کیا ہوگا جو وہ عراق کے بارے میں رکھتے ہیں کیونکہ وائٹ ہاؤس کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق عراق کی حکومت اپنے متعین اٹھارہ اہداف کے صرف نصف کی طرف اطمینان بخش پیش رفت کر رہی ہے۔

مجموعی طور دیکھا جائے تو یہ ان امریکیوں کی مایوسی میں اضافے ہی کا باعث ہو گا جو پہلے ہی مزید وقت اور مزید تحمل کے مشوروں سے اکتائے ہوئے ہیں۔

ان سوالوں کا جواب آپ کیا دیتے ہیں اس کا ایک حد تک انحصار اس بات پر ہے کہ آپ اس ہفتے کے واقعات میں مرکزی حیثیت اختیار کرنے والے آدمی، جنرل ڈیوڈ پیٹرائس کے بارے میں کیا رائے قائم کرتے ہیں۔

News image
عراق کے پُر تشدد واقعات کا اثر
 واشنگٹن کے ایسے جائزوں پر عراق میں ہونے والے پُر تشدد واقعات بھی اپنا اثر ڈالتے ہیں۔ اس لیے کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ آئندہ چند ہفتوں میں سیاسی منظر نامہ کیا ہو گا

جب سے کانگریس نے عراق میں ان امریکی کمانڈر کی ستمبر میں پیش کی جانے والی رپورٹ سے اتفاق کا اظہار کیا ہے، وہ ایک فوجی آدمی سے کچھ اور بن گئے ہیں۔

ان کی اس رپورٹ کو عراق میں امریکی فوجیوں کی نقل و حرکت کے بارے میں امریکی انتظامیہ کی حکمتِ عملی کے لیے ایک اہم مقام یا پڑاؤ قرار دیا جا رہا ہے۔

ان کی یہ رپورٹ ہمیں عراق کی صورتِ حال کے بارے میں توقع کے مطابق ایک سنجیدہ اور مثبت جائزہ فراہم کرتی ہے اور جس میں خاص طور پر صوبہ انبار میں سکیورٹی کی ایسی معمولی تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں جن کے کچھ امریکی فوجیوں کی کرسمس تک واپسی کی راہ نکل آئے گی۔ اگرچہ امریکہ کو عراق کے بارے میں اپنے طویل المعیاد عزم پر قائم رہنا ہو گا۔

لیکن واشنگٹن کے ایسے جائزوں پر عراق میں ہونے والے پُر تشدد واقعات بھی اپنا اثر ڈالتے ہیں۔ اس لیے کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ آئندہ چند ہفتوں میں سیاسی منظر نامہ کیا ہو گا۔

اسی بارے میں
بش کا فوجیں کم کرنے کا وعدہ
14 September, 2007 | آس پاس
بش اچانک عراق پہنچ گئے
03 September, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد