بش کا فوجیں کم کرنے کا وعدہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے ٹیلی ویژن پر خطاب میں عراق سے کچھ فوجیں واپس بلانے کی تجویز کی تائید کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سال کرسمس تک پانچ ہزار سات سو فوجی گھر آ جائیں گے اور انہیں توقع ہے کہ اگلے برس جولائی تک مزید ہزاروں فوجی بھی عراق سے لوٹ آئیں گے۔ صدر بش کے اس وعدے کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے عراق میں امریکی فوجی کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹرئس کا مشورہ قبول کر لیا جو کمانڈر نے اس ہفتے کانگریس کو دی جانے والے رپورٹ میں دیا تھا۔ صدر بش کے اس منصوبے پر عمل سے عراق میں امریکی فوجوں کی تعداد واپس اتنی ہو جائے گی جو اس سال کے آغاز میں صدر بش کی طرف سے عراق میں ’دباؤ‘ بڑھانے کے حکم سے پہلے تھی۔ یاد رہے کہ امریکی حزب مخالف یعنی ڈیموکریٹس مطالبہ کر رہے تھے کہ عراق میں حکمت عملی تبدیل کی جائے اور ان کا الزام ہے کہ صدر بش اس جنگ کو ختم کرنے کا کوئی منصوبہ پیش نہیں کر رہے ہیں۔ اس تناظر میں واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جسٹن ویب نے بتایا ہے کہ ڈیموکریٹس نے صدر بش کے خطاب کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ایک ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار، جو بیڈن، نے اسے شرمناک اور لغو قرار دیا ہے۔
امریکی صدر کے اس خطاب سے کچھ گھنٹے قبل عراق میں امریکہ کے حامی سنی رہنما کو ہلاک کر دینے کی خبر آ چکی تھی۔ پرائم ٹائم میں دکھائے جانے والے خطاب میں صدر بش نے جس منصوبے کا اعلان کیا اس کے مطابق اگر کچھ شرائط پوری ہو جاتی ہیں تو اگلے سال موسم گرما تک عراق میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں تقریباً تیس ہزار کی کمی کر دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم جس قدر زیادہ کامیاب ہوں گے اسی قدر زیادہ فوجی واپس بلا سکتے گے۔‘ مرحلہ وار فوجی انخلاء کے منصوبے کے متعلق صدر بش نے زور دے کر کہا کہ اس سے ان لوگوں کی خواہش پوری ہوگی جو فوجیوں کو واپس گھر بلانا چاہتے ہیں اور ان لوگوں کی بھی جو تسلیم کرتے ہیں کہ عراق میں کامیابی امریکہ کی اپنی سکیورٹی کے لیے ضروری ہے۔’ اس حکمت عملی سے (یہ بات پہلی مرتبہ ممکن ہو سکے گی کہ) اس پیچیدہ بحث کے دونوں اطراف کے لوگوں کو ایک جگہ اکٹھا کیا جا سکے۔‘ جنگ کے ناقدین کو مخاطب کرتے ہوئے صدر بش کا کہنا تھا کہ ’ القاعدہ کو دہچکا پُہنچانا کسی وقت بھی درست اقدام ہو سکتا ہے۔ آزادی کے فروغ کا کوئی وقت نہیں ہوتا اور ایک ایسی جنگ میں جو آپ کے فوجی جیت سکتے ہوں ان کی حمایت کسی بھی وقت کی جا سکتی ہے۔‘ صدر بش کی تقریر میں درج ذیل اہم نکات شامل تھے:
صدر بش کی تقریر سے قبل عراق میں سنی عرب قبائل کے اتحاد کے رہنما عبدالستار ابو رشہ کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ امریکہ کا حمایت یافتہ یہ اتحاد عراق میں القاعدہ کے خلاف مصروف عمل ہے اور گزشتہ ہفتے عراق کے دورے کے موقع پر صدر بش نے عبدالستار ابو رشہ سے ملاقات بھی کی تھی۔ وائٹ ہاؤس نے ایک بم حملے میں ان کی ہلاکت کی کڑی مذمت کی ہے۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان کی ہلاکت سے صوبہ انبار میں القاعدہ کے خلاف امریکی کوششوں کو دہچکا پہنچ سکتا ہے یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ قبائل امریکی اور عراقی فوجوں کے ساتھ اپنے اتحاد کو مزید مضبوط کر لیں۔ صدر بش کے عراق سے انخلاء کے منصوبہ پر عمل سے امریکی فوجوں کی تعداد ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے کم ہو کر ایک لاکھ تیس ہزار ہو جائے گی۔ تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ اگلے مو سم بہار تک یہ تعداد یوں بھی کم ہو جانا تھی کیونکہ عراق میں اس سے زیادہ قیام سے فوجیوں کی کارکردگی متاثر ہونے کا خدشہ موجود تھا۔ ڈیموکریٹس نے صدر بش کے خطاب پر مزید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات جیتنے کی صورت میں ان کی جماعت عراق میں امریکی کردار میں ’زبردست تبدیلیاں‘ لائے گی۔ سینیٹر جیک ریڈ نے کہا کہ ’صدر بش ایک مرتبہ پھر جنگ ختم کرنے یا اسے جاری رکھنے کے لئے دلائل پر مبنی کوئی منصوبہ دینے میں ناکام ہوئے ہیں۔‘ کانگریس میں ڈیموکریٹس ابھی تک عراق سے فوجی انخلاء کا کوئی نظام الاوقات منظور کرانے میں ناکام رہے ہیں کیونکہ کانگریس میں ان کو جو تھوڑی سی برتری حاصل ہے صدر بُش اسے ویٹو کر سکتے ہیں۔ عراق میں اس وقت 168،000 امریکی فوجی اہلکار موجود ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||