BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 September, 2007, 07:25 GMT 12:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اکثریت عراق سے انخلاء کی حامی‘
اتحادی افواج ،عراق
جن ممالک کی افواج عراق میں ہیں ان کے ہاں فوری انخلاء کا خیال مقبول نہیں
بی بی سی کے ایک جائزے کے مطابق دنیا بھر میں زیادہ تر لوگوں کی رائے ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ایک سال کے اندر عراق سے نکل جانا چاہیئے۔

بائیس ممالک میں انتالیس فیصد لوگوں نے کہا ہے کہ اتحادی فوجیں فی الفور واپس جائیں جبکہ اٹھائیس فیصد لوگ مرحلہ وار انخلاء کے حامی ہیں۔ ان ممالک میں صرف تئیس فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ غیر ملکی فوجوں کو عراق میں استحکام پیدا ہونے سے پہلے نہیں نکلنا چاہیئے۔

جائزے کے مطابق امریکہ میں ہر چار میں سے ایک شخص فوری انخلاء کا حامی ہے جبکہ بتیس فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ انخلاء سے پہلے عراق میں امن عامہ کی صورتحال کا بہتر بنایا جانا ضروری ہے۔

بی بی سی کی عالمی سروس کے اس جائزے کے لیے تئیس ہزار ایک سو ترانوے لوگوں سے رائے لی گئی۔ رائے دہندگان سے پوچھا گیا تھا کہ آیا اتحادی افواج کو عراق سے فوری نکل جانا چاہیئے، ایک سال کے اندر مرحلہ وار انخلاء کرنا چاہیئے یا تب نکلنا چاہیئے جب وہاں سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہو جائے۔

انیس ممالک میں رائے دہندگان کی اکثریت کا خیال تھا کہ فوجیں فوری طور پر واپس بلا لی جائیں یا پھر سکیورٹی بہتر ہونے پر انخلاء ہو جانا چاہیئے۔


جائزے میں شامل صرف تین ممالک، کینیا، بھارت اور فلپائن، میں بحیثیت مجموعی لوگوں کی اکثریت ایک سال کے اندر انخلاء کے حق میں نہیں تھی۔

بھارت میں اکثریت نے اس سوال کا جواب دینے سے معذوری ظاہر کر دی یا یہ کہا کہ انہیں معلوم نہیں۔

انڈونیشیا ( 65 فیصد)، ترکی ( 64 فیصد) اور مصر ( 58 فیصد) سمیت دیگر مسلمان ممالک میں بھی لوگوں کی رائے تھی کہ فوجوں کو فوراً نکل جانا چاہیئے۔

دوسری جانب ان ممالک میں جن کی افواج عراق میں ہیں، فوری انخلاء کا خیال زیادہ مقبول نہیں۔ مثلاً آسٹریلیا میں صرف بائیس فیصد، امریکہ میں چوبیس فیصد اور برطانیہ میں ستائیس فیصد لوگ فوری انخلاء کے حق میں پائے گئے۔

مستقل فوجی موجودگی
حالیہ دنوں میں امریکہ، آسٹریلیا اور برطانیہ میں مخلف رہنما یہ کہتے رہے ہیں کہ اتحادی فوجوں کو اس وقت تک عراق سے نہیں نکلنا چاہیئے جب تک کہ وہ ملک محفوظ نہ ہو جائے۔ تینوں ممالک کہتے ہیں کہ انہیں عراقی عوام کی خاطر اس وقت تک وہاں رہنا ہے جب تک کہ عراق کی اپنی افواج ملک میں سکیورٹی کو یقینی بنانے کے قابل نہیں ہو جاتیں۔

تاہم بی بی سی کے لیے جائزہ کرنے والے ادارے ’گلوب سکین‘ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر لوگ ان رہنماؤں کی رائے سے اتفاق نہیں کرتے۔

 پچاس فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ امریکہ عراق میں اپنے مستقل فوجی اڈے رکھے گا جبکہ چھتیس فیصد کا خیال تھا کہ وہ ایسا نہیں کرے گا اور عراق میں استحکام کے بعد فوجیں نکال لے گا

سروے میں لوگوں سے یہ بھی پوچھا گیا تھا کہ آیا ان کے خیال میں امریکہ اپنی فوجیں مستقل طور پر عراق میں رکھے گا۔ پچاس فیصد لوگوں کا جواب تھا کہ امریکہ وہاں اپنے مستقل فوجی اڈے رکھے گا جبکہ چھتیس فیصد کا خیال تھا کہ وہ ایسا نہیں کرے گا اور عراق میں استحکام کے بعد فوجیں نکال لے گا۔

جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ بی بی سی کے فروری دو ہزار چھ کے جائزے کے مقابلے میں اب لوگ اس خیال کے حق میں کم ہیں کہ اتحادی فوجوں کو سکیورٹی میں بہتری کا انتظار کرنا چاہیئے۔ بی بی سی کے نامہ نگار برائے عالمی امور، نِک چائلڈ، کے خیال میں یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق پر ایک متنازعہ حملے کے چار سال بعد بین الاقوامی رائے عامہ کا غیر ملکی فوجوں کی موجودگی کے خلاف ہونا کوئی نہ سمجھ آنے والی بات نہیں ہے۔

صدر بشصبر سے کام لیں
’فوج ہٹائی تو عراق ویتنام بن جائےگا‘
امریکی فوجیعراق پر بل منظور
ووٹر فوج کے انخلاء کے لیے ووٹ ڈال سکیں گے
عراقی بچے عراقی بچوں کا المیہ
عراق میں بقا کی جنگ لڑتے یتیم بچے
’تباہی کے دہانے پر‘
عراق تقسیم کی جانب جا رہا ہے: تھِنک ٹینک
عراقعراق، انسانی بحران
تشویش ناک ہے۔اقوام متحدہ
فوج معذرت کرے گی
ہلاک شدہ امریکی فوجیوں کا بلاوہ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد