BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عراق میں صورت حال بہتر نہیں‘
عراق کے بارے میں ایک رپورٹ اگلے ہفتے پیش کی جانی ہے
امریکی کانگریس کے ایک نگران ادارے نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ عراق میں حالات میں بہتری کو جانچنے کے لیے مقرر کئے گئے اٹھارہ اہداف میں سےگیارہ حاصل کرنےمیں ناکامی ہوئی ہے۔

احتساب کے حکومتی ادارے کا کہا ہے کہ عراق میں سیاسی نظام کی بحالی میں پیش رفت اطمنان بخش نہیں رہی جبکہ تشدد کے واقعات بھی زیادہ ہوئے ہیں۔

عراق ان اہداف میں صرف تین پورے کر سکا ہے جبکہ چار میں جزوی طور پر کامیابی ہوئی ہے۔

گزشتہ ہفتے اسی رپورٹ کے حصہ غیر سرکاری طور پر سامنے آئے تھے ان میں زیادہ تاریک صورت حال پیش کی گئی تھی تاہم مکمل رپورٹ میں پیش کی گئی تصویر اس سے معمولی سی بہتر ہے۔

رپورٹ کے غیر سرکاری طور پر سامنے والے حصوں میں کہا گیا تھا صرف تین اہداف حاصل ہو سکیں ہیں جبکہ دو میں جزوی کامیابی حاصل کی جا سکی ہے۔

ذرائع ابلاغ میں اس رپورٹ کے حصے شائع ہونے کے بعد امریکی وزارتِ دفاع نے کہا کہ حکام نے اس رپورٹ میں کچھ حقائق کو درست کیا اور چند مزید سفارشات پیش کی ہیں۔

عراق میں گزشتہ چند مہینوں میں تیس ہزار مزید امریکی فوجی بھیجے گئے ہیں

محتسب کے حکومتی ادارے کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراق فرقہ وارانہ تشدد ختم کرنے اور تیل کی آمدنی کی تقسیم کے بارے قانون سازی کرنے کے دو بنیادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

اس رپورٹ میں وائٹ ہاوس کی طرف سے گزشتہ جولائی میں جاری ہونے والی رپورٹ سے مختلف تصویر پیش کی گئی ہے۔ وائٹ ہاوس کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ عراق آٹھ اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔

یہ اہداف عراق میں سیاسی نظام کی بحالی اور فوج کو از سر نو ترتیب دینے کے کام میں پیش رفت کو جانچنے کے لیے مقرر کئے گئے تھے۔

احتساب کے حکومتی ادارے کی طرف سے یہ رپورٹ صدر بش کے عراق دورے کے ایک دن بعد سامنے آئی جس کے دوران امریکی صدر نے کہا تھا کہ عراق میں فوجیوں کی تعداد میں تیس ہزار کے اضافے کے بعد حالات بہتری کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

عراق میں امریکی فوج کی کامیابی کو جانچنے کے لیے کئے جانے والے تجزیوں میں یہ رپورٹ پہلی تھی اور آئندہ مہینے ایسی کئی اور رپورٹس جاری کی جانی ہیں۔

ان تمام تجزیوں اور رپورٹس میں سب سے اہم عراق میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل پیٹرس اور عراق میں امریکی سفیر ریان کروکر کی ہیں جو اسی مہینے پیش کی جانی ہیں۔

ان رپورٹ میں عراق میں ہر شعبے میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ احاطہ کیا جائے گا۔

اسی بارے میں
بش اچانک عراق پہنچ گئے
03 September, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد