BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 03 September, 2007, 13:32 GMT 18:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بش اچانک عراق پہنچ گئے
صدر بش (فائل فوٹو)
صدر بش سڈنی میں ہونے والے ایشیا پیسیفک اکنامک کارپوریشن کے اجلاس میں شرکت کریں گے
امریکی صدر جارج ڈبلیو بش آسٹریلیا میں ہونے والے ایشیا پیسیفک اکنامک فورم کے اجلاس میں شرکت سے قبل اچانک عراق پہنچ گئے ہیں۔

وہ بغداد کے مغربی حصے میں واقع الاسد ائر بیس پر اترے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے وائٹ ہاؤس کے حوالے سے بتایا ہے کہ صدر بش کے ہمراہ امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس، نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر سٹیفن ہیڈلے اور دیگر سینئر اراکین بھی ہیں۔

توقع کی جا رہی ہے کہ امریکی صدر اس دورے کو بطور ایک دلیل کے استعمال کریں گے کہ عراق میں امریکی فوج کی تعداد میں اضافے سے وہاں استحکام قائم کرنے میں مدد مل رہی ہے۔

عراق میں موجود امریکی کمانڈر اور وہاں تعینات امریکی سفیر اس ماہ کے آخر میں فوج کی تعداد میں اضافے سے متعلق کانگریس میں ایک رپورٹ پیش کریں گے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عراقی میں فوجیوں کی تعداد میں اضافے سے متعلق امریکی حکمت عملی کے لیے اگلے دو ہفتے انتہائی اہم ہیں کیونکہ واشنگٹن میں اس حوالے سے بحث میں شدت آتی جا رہی ہے کہ آیا امریکہ کو عراق سے اپنے فوجیوں کو واپس بلا لینا چاہیے یا نہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے پینٹاگون کے ایک ترجمان کے حوالے سے بتایاہے کہ صدر کے ملٹری ایڈوائزرز اور عراقی قیادت کے درمیان ہونےوالی یہ اہم ملاقات ہے۔ صدر بش کی عراق آمد ایک ایسے وقت پر ہوئی ہے جب امریکہ اور اس کے بڑے اتحادی برطانیہ کے درمیان عراق پالیسی پر تناؤ کے بعد برطانوی فوج نے جنوبی عراق کے شہر بصرہ میں اپنے آخری فوجی اڈے کو بھی خالی کردیا ہے۔

دوسری طرف ڈیموکریٹس بھی کئی ماہ سے زور دے رہے ہیں کہ عراق سے امریکی فوجی دستوں کے انخلاء کا اوقات کار مقرر کیا جائے تاہم صدر بش اور ان کے حامی فوجی جنرل یہ دلیل دیتے ہیں کہ فروری میں عراق میں امریکی فوج کی تعداد میں اضافہ وہاں تشدد کے خاتمے میں کارگر ثابت ہوا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے بتایا ہے کہ صدر بش سڈنی میں ہونے والے ایشیا پیسیفک اکنامک کارپوریشن فورم میں شرکت کے لیے منگل کو آسٹریلیا پہنچیں گے جس میں ان کے علاوہ آسٹریلیا، چین، جاپان اور روس کے رہنما شرکت کر رہے ہیں۔

’عراق جنگ کا تناؤ‘
جب رابرٹ گیٹس کی آنکھیں نم ہوگئیں
عراق کا المیہ
ستمبر سے پہلے عراق امریکہ میں اہم موضوع
’رپورٹ سامنے لائیں‘
عراقی ہتھیار: برطانوی رپورٹ عام کرنے کا مطالبہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد