کانگریس عراق پر ساتھ دے: بش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے کانگریس پر زور دیا ہے کہ وہ عراق میں ان کے نئے سکیورٹی منصوبے کو کامیابی کے لیے مزید وقت دے۔ صدر بش کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ عراق جنگ کس طرح امریکیوں پر اثر انداز ہوئی ہے لیکن سیاست دانوں کو چاہیے کہ وہ ابھی عراق سے فوجی انخلاء پر زور نہ دیں اور ستمبر میں عراق میں امریکی فوج کے کمانڈر کی رپورٹ کا انتظار کریں۔ گزشتہ ہفتے صدر بش کی جماعت کے چار سینیٹرز نے بھی حزبِ مخالف کے ساتھ مل کر عراق سے امریکی فوج کے انخلاء کا مطالبہ کیا تھا۔ صدر بش کا کہنا تھا ’میں مکمل طور پر سمجھتا ہوں کہ یہ جنگ امریکیوں کی نفسیات پر سخت اثر انداز ہوئی ہے‘ لیکن انہوں نے کہا کہ یہ جنگ القاعدہ کو ایک محفوظ پناہ گاہ فراہم نہ کرنے کے لیے اور امریکی عوام اور ان کی آل اولاد کے تحفظ کے لیے ضروری تھی۔ امریکی صدر نے امریکی عوام سے اپیل کی کہ وہ عراق پر اس ہفتے آنے والی رپورٹ سے آگے کا سوچیں۔ کانگریس میں جمعرات یا جمعہ کو پیش کی جانے والی اس رپورٹ میں سیاسی اور عسکری عزائم کے حصول کے حوالے سے عراق کی ترقی کا جائزہ پیش کیا جائے گا۔ صدر بش کا کہنا تھا ’میرے نزدیک (عراق میں) کمانڈر کو اپنے عزائم پر مکمل عمل کرنے دینا قومی مفاد میں ہے اور کانگریس کو کسی بھی فیصلے سے قبل جنرل پیٹریس کی واپسی اور عراق میں حکمتِ عملی کے حوالے سے ان کی جائزہ رپورٹ کا انتظار کرنا چاہیے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہی امریکی عوام کی بھی خواہش ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ فوجی کمانڈر واپس آ کر ہمیں بتائیں کہ فوجی آپریشن کیسا چل رہا ہے‘۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نمائندے جیمز کماراسوامی کے مطابق صدر بش کی جانب سے اس سیاسی جنگ میں سیزفائر کی اپیل فوجی انخلاء کے حوالے سے رپبلکنز کی رائے میں آنے والی تبدیلی پر وائٹ ہاؤس کی بے چینی کو چھپانے میں ناکام رہی ہے۔ | اسی بارے میں ’میدانِ جنگ چھوڑ کرنہیں جاناچاہتا‘16 June, 2007 | آس پاس بغداد ابھی بھی کنٹرول سے باہر05 June, 2007 | آس پاس عراق: کانگریس نے فنڈز منظور کر دیے24 May, 2007 | آس پاس عراق سے فوجی انخلاء کا بل واپس23 May, 2007 | آس پاس عراق جنگ کی فنڈِنگ پر اختلافات12 May, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||