’میدانِ جنگ چھوڑ کرنہیں جاناچاہتا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج کے سبکدوش ہونے والے سربراہ جنرل پیٹر پیس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ہٹائے جانے کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہیں۔جنرل پیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی مرضی سے استعفی نہیں دیا کیونکہ کہ بطور رہنما یہ ان کے لیے نا قابل قبول ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان سے کہا گیا کہ ’میرا کام ختم ہو گیا ہے‘۔ مشترکہ امریکی افواج کے سربراہ کے عہدے کی مدت اکتوبر میں ختم ہو رہی ہے۔ ورجینیا میں مشترکہ افواج کے کالج میں بات کرتے ہوئے انہوں نےکہا ان کے خیال میں جنگ کے دوران ان کا استعفی دینا اپنے فوجی دستوں کے ساتھ دغا کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں صرف ایک ہی موضوع پر بات ہوئی کہ میں رضاکارانہ طور پر استعفی دے دوں تاہم انہوں نے اس بات کو مسترد کر دیا کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کی کمانڈ میں کبھی کوئی یہ سوچے کہ وہ اپنی مرضی سے میدان جنگ چھوڑ کر چلے گئے۔ گزشتہ ہفتے واشنگٹن نے کہا تھا کہ جنرل پیٹر پیس کے عہدے کی مدت کو بڑھانے کی کوشش نہیں کی جائے گی تاکہ کانگریس میں اس سلسلے میں اختلاف رائے سے بچا جا سکے۔ حالیہ مہینوں میں بش انتظامیہ کو عراق کے موضوع پر کانگریس کی جانب سے کئ چیلنجز کا سامنا رہا ہے جہاں اب ڈیمو کریٹس اکثریت میں ہیں۔ جنرل پیس عراق اور افغانستان میں امریکی افواج سے متعلق تمام متنازعہ فیصلوں میں شامل رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نےکہا تھا کہ وہ جنرل پیس کے عہدے کی مدت میں مزید دو سال کی توسیع چاہتے تھے لیکن وہ اس پیچیدہ اور ماضی کی جانب دیکھنے والے عمل سے نہیں گزرناچاہتے۔ وزیر دفاع نے فوج کی سربراہی کے لیے بحریہ کے موجودہ سربراہ ایڈمرل مائیکل مولن کا نام تجویز کیا ہے۔ | اسی بارے میں امریکی افواج کے نئے سربراہ09 June, 2007 | آس پاس ’فوج عراق پالیسی میں تجاویزدے گی‘11 November, 2006 | آس پاس عراقی’قتلِ عام‘ پر امریکی پریشان31 May, 2006 | آس پاس فلوجہ میں امن کی امیدیں معدوم21 April, 2004 | آس پاس جنگ کا بہانہ نہیں ڈھونڈ رہے: گیٹس16 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||