عراق تشدد میں تیس افراد ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں پولیس نے کہا ہے کہ ملک میں تشدد کے واقعات میں کم از کم تیس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ تشدد کے یہ واقعات مزاحمت کاروں کے اس اعلان کے بعد ہوئے ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ رمضان کے مہینے میں مزید حملے کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ امریکی فوج نے کہا ہے کہ انبار کے سنی رہنما شیخ ابو رشا کے قتل کے شبہے میں ایک شخص کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ شمالی شہر کرک کے نزدیک ایک علاقے تز خرماتو کے ایک کیفے میں ایک خودکش حملے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو گئے۔ اس کیفے میں رمضان کے مہینے میں کھانا فروخت کیا جا رہا تھا۔ بغداد کے شمالی ہی میں واقع دیالا صوبے میں شدت پسندوں نے دو دیہات پر حملہ کر کے چودہ افراد ہلاک کر دیے۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد اس سنی قبیلے کے افراد کی ہے جس نے القاعدہ کے خلاف لڑنے کے لیے اتحاد بنایا تھا۔
اطلاعات کے مطابق تقریباً سو کے قریب شدت پسندوں نے دو دیہات پر حملہ کر دیا اور چودہ افراد کو ہلاک کر دیا اور بارہ کے قریب دکانوں کو آگ لگا دی۔ پولیس نے کہا ہے کہ بغداد شہر میں نو افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں سیکیورٹی کمپنی کے ٹھیکے دار بھی بتائے جاتے ہیں۔ بغداد میں امریکی سفارتخانے کے مطابق ٹھیکے دار امریکی وزارتِ خارجہ کے لیے کام کرتے تھے۔ سفارتخانے نے اس سے زیادہ معلومات دینے سے انکار کر دیا۔ بغداد کے مغرب میں ایک کار بم دھماکے میں کم از کم دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ دریں اثناء عراق میں امریکی فوج نے کہا ہے کہ بغداد کے گردو نواح میں مختلف چھاپوں میں آٹھ ’دہشت گرد‘ ہلاک کر دیے گئے ہیں۔ ان چھاپوں کے دوران سات افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ |
اسی بارے میں واشنگٹن میں جنگ مخالف مظاہرہ16 September, 2007 | آس پاس عراق:خوں ریزی کا مشتبہ سرغنہ ہلاک 09 September, 2007 | آس پاس امریکہ اسلام قبول کرلے: اسامہ07 September, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||