عراق:خوں ریزی کا مشتبہ سرغنہ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ اقلیتی یزیدی فرقے پر حملوں کی سازش کرنے والا شدت پسند ہلاک ہوگیا ہے۔اس حملے میں چار سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ امریکی افواج کے ترجمان مارک فوکس کا کہنا ہے کہ ابو محمد العافری کو تین ستمبر کو شمالی شہر موصل کے نزدیک ایک ہوائی حملے میں ہلاک کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ محمد العافری عراق میں القاعدہ رہنما کے ساتھی تھے کچھ اندازوں کے مطابق شمال مغربی خطے سنجر کے دو دیہاتوں میں ہونے والے بم حملوں میں پانچ سو سے زائد افراد مارے گئے تھے۔ سنہ دو ہزار تین میں امریکی افواج کی کارروائی شروع ہونے کے بعد سے اب تک کے سب سے خطرناک اس حملے میں دیگر چارسو افراد زخمی ہوئے تھے۔ مارک فوکس نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’14 اگست کودو یزیدی دیہاتوں قہطانیہ اور عدنانیہ پر ہونے والے ان دہشتناک حملوں کی سازش کرنے والا شخص محمد العافری اتحادی افواج کی فضائی کارروائی میں ہلاک ہو گیا۔ ان حملوں میں کاروں اور آئل ٹینکر کا استعمال کیا گیا تھا۔ یزدی فرقے اور مقامی مسلمانوں میں گزشتہ کئی مہیبنوں سے شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔ مسلمانوں اور یزیدی فرقے کے لوگوں میں کشیدگی اس وقت شروع ہوئی تھی جب یزیدی فرقے کی ایک لڑکی کو اسلام قبول کرنے پر اس کے فرقے کے لوگوں نے سنگسار کر دیا تھا۔ | اسی بارے میں یزیدی: چار سو ہلاکتوں کا خدشہ16 August, 2007 | آس پاس عراق خود کش دھماکے ایک سو پچہتر ہلاک14 August, 2007 | آس پاس عراق دھماکوں میں ڈھائی سو ہلاک15 August, 2007 | آس پاس عراق دھماکے، دو سو ہلاک دو سو زخمی15 August, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||