BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 August, 2007, 08:59 GMT 13:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق دھماکے، دو سو ہلاک دو سو زخمی
یزدی فرقے کے لوگ قبل از اسلام بھی اس علاقے میں آباد ہیں
عراق کے شمالی شہر موصل کے قریب دو دیہاتوں میں ہونے والے چار کار بم حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو سو ہو گئی ہے۔

موصل پولیس کے سربراہ میجر جنرل واتک الہمبانی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ منگل کی شام کو ہونے والے ان بم حملوں میں دو سو افراد ہلاک اور دو سو زخمی ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ بم دھماکوں سے گرنے والی عمارتوں کے ملبے کے نیچے ابھی تک لوگ پھنسے ہوئے ہیں اور ممکن ہے کہ ملبے میں مزید لاشیں موجود ہوں۔

موصل پولیس کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ قہطانیہ اور عدنانیہ نامی دیہاتوں میں ہونے والے بم دھماکوں سے کئی گھروں کی عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں اور وہ یہ بات یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ یہ ایک خودکش حملہ تھا یا نہیں کیونکہ انہیں خود اس کے بارے میں متضاد اطلاعات مل رہی ہیں۔ انہوں نے ان بم حملوں کی ذمہ داری عراق میں موجود القاعدہ کے اراکین پر عائد کی۔

ان حملوں کا بظاہر نشانہ کردستان سے تعلق رکھنے والے یزیدی فرقے کے لوگ تھے۔ یزیدی فرقے کے لوگوں اور مقامی مسلمانوں میں گزشتہ کئی مہیبنوں سے شدید کشیدگی پائی جاتی تھی۔ یہ کشدیدگی اس وقت شروع ہوئی تھی جب یزیدی فرقے کی ایک لڑکی کو اسلام قبول کرنے پر اس کے فرقے کے لوگوں نے سنگسار کر دیا تھا۔

امدادی رکاوٹ
 ’ہم ابھی تک اپنے ہاتھوں اور بیلچوں کے ساتھ ملبہ ہٹا رہے ہیں۔ ہم کرینوں کا استعمال نہیں کر سکتے کیونکہ زیادہ تر گھر گارے سے بنے ہوئے ہیں
قریبی گاؤں کے ناظم

ایک دھماکے میں زخمی ہونے والے یزیدی فرقے کے تیس سالہ خادر شامو نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ دھماکے نے مجھے اور میرا دوست کو ہوا میں اچھال دیا۔ مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا ہوا تھا۔‘

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں کم از کم ایک حملے میں ایک آئل ٹینکر استعمال کیا گیا ہے۔

ایک نزدیکی گاؤں سِنجل کے میئر داخم قاسم نے خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ہم ابھی تک اپنے ہاتھوں اور بیلچوں کے ساتھ ملبہ ہٹا رہے ہیں۔ ہم کرینوں کا استعمال نہیں کر سکتے کیونکہ زیادہ تر گھر گارے سے بنے ہوئے ہیں‘۔

میئر کا کہنا تھا کہ چار ٹرک قہطانیہ میں مختلف سمتوں سے آئے اور چند منٹ کے وقفے سے پھٹتے گئے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ان دھماکوں میں دو سو افراد ہلاک اور تین سو زخمی ہوئے ہیں اور یہ کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

میئر نے مزید کہا کہ ان حملے میں ان غریب یزیدی لوگوں کو نشانہ بنایا گیا جن کا عراق میں جاری مسلح تصادم سے کوئی لینا دینا نہیں۔

ہسپتال میں زخمیوں کو خون کا عطیہ دینے والے ایک چالیس سالہ یزیدی استاد غسان سلیم کا کہنا تھا: ’ میں نے ہسپتال میں خون دیا، میں نے وہاں کئی ایسے زخمی دیکھے جن کی ہاتھ یا ٹانگیں کٹ چکی تھیں۔‘

شہریوں کو نشانہ بنانا

ان حملوں کے بارے میں عراق میں امریکی فوج نے کہا کہ بموں سے لدے ہوئے پانچ ٹرکوں کو قہطانیہ اور الجزیرہ کے دیہاتوں میں پھاڑا گیا، جس کے نتیجے میں ساٹھ عراقی شہری ہلاک اور کئی زخمی ہوئے جن کی تعداد معلوم نہیں۔

خبررساں ادارے رائٹرز نے بتایاہے کہ امریکی فوج کا کہنا ہے انہوں نے زخمیوں کو تل افار اور سنجار کے ہسپتالوں تا پہنچایا۔

عراق
ہسپتال لائے گئے کئی زخمیوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہے

علاقے میں امریکی فوجی دستے کے سربراہ میجر روجر لیمنز نے کہا: ’ اس حملے نے ایک بار پھر دکھایا ہے کہ دہشتگرد عراق کے لوگوں کو تقسیم کرنے کی غرض سے معصوم لوگوں کو، جن میں اکثر عورتیں اور بچے شامل ہوتے ہیں، نشانہ بناتے ہیں۔ لیکن یہ دہشتگرد کامیاب نہیں ہوں گے۔‘

منگل کو ہونے والے حملوں کو عراقی جنگ کے بعد کا سب سے بڑا مزاحمتی حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی حکام نے ان بم حملوں کو ’درندہ صفت‘ قرار دیا ہے جبکہ کرد رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ حملے عراقی حکومت کی ناکامی کا علامت ہیں۔

دریں اثناء بغداد کے مغرب میں فلوجہ کے قریب ایک امریکی ہیلی کاپٹر کے تباہ ہونے سے پانچ امریکی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔

امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ہیلی کاپٹر کے تباہ ہونے کے اسباب کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات کر رہے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ شنوک ہیلی کاپٹر مرمت کے بعد تجرباتی پرواز پر تھا جب اس کو یہ حادثہ پیش آیا۔

اس سے قبل امریکی فوج نے نینوا اور بغداد میں پیش آنے والے تشدد کے مختلف واقعات میں چار فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

پولیس حکام کے مطابق بغداد میں ایک پل پر خودکش کار بم دھماکے میں دس افراد ہلاک ہو گئے۔ اس دھماکے کی وجہ سے کئی گاڑیاں پل سے دریا میں جا گریں۔

تشدد کے ایک اور واقعہ میں پچاس مزاحمت کار جو وردیوں میں ملبوس تھے تیل کے نائب وزیر سمیت کئی حکام کو اغواء کرکے لے گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بغداد میں سترہ گاڑیوں پر سوار مزاحمت کاروں نے تیل کی وزارت پر دھاوا بول دیا۔

عراق کا المیہ
ستمبر سے پہلے عراق امریکہ میں اہم موضوع
عراقی مہاجرینعراقی مہاجرین
اردن میں بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد
عراقاقوامِ متحدہ عراق میں
کیا نئی قرارداد سے سیاسی ڈیڈ لاک ٹوٹےگا؟
اسی بارے میں
عراق اور امریکی مشکالات
14 August, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد