یزیدی: چار سو ہلاکتوں کا خدشہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے شمالی شہر موصل کے قریب دیہاتوں میں منگل کی شام ہونے والے دھماکوں میں چار سو ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ حملے وہاں کی یزیدی برادری پر کیے گئے تھے۔ عراق کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ کم سے کم 400 افراد ہلاک ہوئے ہیں، لیکن پولیس اور وزارت صحت کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ہلاکتیں 250 سے کچھ زائد ہیں۔ اس سے قبل صوبے کے گورنر نے کہا ہے کہ لگ بھگ 200 افراد ملبوں میں دبے ہوسکتے ہیں۔ منگل کی شام دو یزیدی دیہاتوں قہطانیہ اور عدنانیہ پر ہونے والے حملے گزشتہ چار برسوں کے دوران ہونے والے سب سے خونریز ثابت ہوئے ہیں۔
عراقی وزیراعظم نوری المالکی اور عراقی صدر جلال طالبانی نے یزیدی برادری پر حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ طل افار صوبے کے گورنر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ 250 ہلاکتوں اور 350 زخمیوں کی تعداد میں بڑے اضافے کا خدشہ ہے۔ منگل کی شام دو دیہاتوں میں چار حملے کیے گئے تھے۔ قریبی شہر سنجال کے میئر نے بتایا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد زیادہ ہوسکتی ہے۔ دخیل قاسم نے خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ’ہم ابھی بھی اپنے ہاتھوں اور بیلچوں سے ملبے کھود رہے ہیں۔‘ کردستان کی علاقائی حکومت کے ترجمان نے بتایا ہے کہ یزیدی برادری اسلام سے بھی قدیم قوم ہے اور یہ خدشہ رہا ہے کہ اس کا وجود ختم ہو رہا ہے۔ | اسی بارے میں عراق خود کش دھماکے ایک سو پچہتر ہلاک14 August, 2007 | آس پاس عراق دھماکوں میں ڈھائی سو ہلاک15 August, 2007 | آس پاس عراق دھماکے، دو سو ہلاک دو سو زخمی15 August, 2007 | آس پاس عراق اور امریکی مشکالات14 August, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||