عراق میں انسانی بحران بد سے بدتر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کی سربراہی میں اتحادی فوجوں کے عراق پر قبضے کے پانچ سال بعد بھی عراق میں رہنے والے لاکھوں عراقیوں کو نہ تو پینے کا صاف پانی دستیاب ہے اور نہ ہی صفائی ستھرائی اور صحت کی سہولیات۔ ریڈ کراس کے مطابق عراق میں انسانی بحران دنیا میں سب سے سنگین ہے۔ سوٹزرلینڈ میں واقع ریڈ کراس تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ چند علاقوں میں بہتر سکیورٹی کے باوجود لاکھوں افراد کو اپنی مدد آپ پر چھوڑا دیا گیا ہے۔ کئی خاندان ایسے ہیں جو اپنی ماہانہ تنخواہ کی تیسرا حصہ صرف صاف پانی خریدنے پر صرف کرتے ہیں۔ انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کی ایک رپورٹ کے مطابق انسانی بحران کو اس سے بھی خطرناک ہونے سے صرف اس طرح بچایا جا سکتا ہے کہ عراقیوں کی روز بروز کی بنیادی ضرورتوں پر توجہ دی جائے۔ رپورٹ کے مطابق عراق میں صحت کی سہولیات اتنی بری کبھی نہیں ہوئیں اور جو سہولیات دستیاب ہیں وہ اتنی مہنگی ہیں کہ لوگوں کی دسترس سے باہر ہیں۔
ریڈ کراس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراق کے ہسپتالوں میں کوالیفائیڈ یا تربیت یافتہ عملے اور بنیادی ادویات کی کمی ہے، سہولیات کی ٹھیک طریقے سے دیکھ بھال نہیں کی جاتی اور سرکاری ہسپتالوں میں صرف تیس ہزار بستر ہیں جبکہ ضرورت اسی ہزار کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ماضی میں کئی دہائیوں کی لڑائی اور اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے ستائس ملین آبادی کے اس ملک میں حالیہ بحران اور بھی سنگین ہو گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے آغاز سے لیکر ابتک دسیوں ہزار عراقی غائب ہو چکے ہیں اور ان کا کچھ پتہ نہیں ہے۔ دیگر دسیوں ہزار جن میں تقریباً سبھی مرد ہیں قید میں ہیں جن میں بیس ہزار وہ افراد بھی شامل ہیں جو بصرہ کے نزدیک کیمپ بکا میں اتحادی فوج کے زیرِ انتظام جیل میں ہیں۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||