’عراقی قیدیوں کو انصاف دیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نےاقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عراق میں امریکی فوج کی طرف سے لوگوں کو قید میں رکھنے کی پالیسی کے بارے میں تشویش کو دور کرے۔ نیویارک میں قائم اس گروپ کا کہنا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں عراقیوں کو غیر معینہ مدت تک بغیر کوئی مقدمہ چلائے قید رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے دعوی کیا ہے کہ بہت سے قیدیوں کو جو قانونی سہولیات مہیا کی جاتی ہیں وہ بین الاقومی معیار کے مطابق نہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق امریکہ سلامتی کونسل کی قرار داد کو نامناسب طور پر اسعتمال کرتا ہے جو کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر لوگوں کو قید کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ عراق میں امریکی قید خانوں میں لوگوں پر وسیع پیمانے پر تشدد کیئے جانے پر بھی گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ امریکی اور عراقی حکام نے اب تک انسانی حقوق کی تنظیم کی طرف سے ظاہر کی جانے والی تشویش پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم نے سلامتی کونسل کے اراکین کے نام ایک خط میں اس تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم نے زور دیا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں امریکی جیلوں میں قید عراقیوں کو انسانی حقوق کے عالمی قوانین کے تحت مناسب قانونی سہولیات فراہم کی جانی چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی قبضے کے ختم ہونے کا مطلب ہے کہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیار کے مطابق لوگوں کو انصاف مہیا کیا جائے۔ ہیومن رائٹس واچ نے واشنگٹن سے مطالبہ کیا کہ عراق میں اقوام متحدہ کے مشن کے مبصرین اور غیر جاندار عراقی ماہرین کو امریکی جیلوں کے معائنہ کرنے کی اجازت دی جائے۔ عراق میں اقوام متحدہ کے مشن کے مطابق گزشتہ سال کے آخر تک عراق میں امریکی فوج کی قید میں چوبیس ہزار کے قریب عراقی تھے۔ |
اسی بارے میں حکومت کی شرائط رد کر دیں27 April, 2008 | آس پاس بغداد: تین امریکی فوجی ہلاک28 April, 2008 | آس پاس عراق: تاریخی نوادرات کی واپسی28 April, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||