حکومت کی شرائط رد کر دیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے شیعہ رہنما مقتدی الصدر نے ان شرائط کو رد کر دیا ہے جو حکومت نے مہدی ملیشیاء پر سرکاری فوج کے حملے بند کرنے کے بارے میں مذاکرات شروع کرنے کے لیے کی عائد کی تھیں۔ وزیر اعظم نوری المالکی نے ایک ماہ قبل ملک گیر سطح پر مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دیا تھا جس میں مقتدی الصدر کی حامی ملیشیاء مہدی آرمی بھی شامل تھی۔ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر بھی مہدی آرمی اور عراقی فوج کے درمیان دارالحکومت بغداد کے صدر شہر میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔ ان تازہ ترین جھڑپوں میں اطلاعات کے مطابق آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔ تازہ ہلاکتوں سے گزشتہ چندہ ہفتوں میں صدر شہر میں مرنے والوں کی تعداد چار سو ہوگئی ہے۔ عراقی اور امریکی فوج مشترکہ طور پر شہر کے مشرق میں واقع مقتدی الصدر کے مضبوط گڑھ میں مہدی ملیشیاء کے مسلح ارکان کی بیخ کنی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ شہر میں انتہائی سکیورٹی والے علاقے گرین زون پر راکٹ حملوں کو روکا جا سکے۔ نورالمالکی کی حکومت نے کہا تھا کہ وہ اس وقت تک مسلح گروہوں کے رہنماوں سے بات چیت نہیں کرے گی جب تک ان کے مسلح ارکان ہتھیار ڈال نہیں دیتے، حکومت کے کاموں میں مداخلت بند نہیں کر دیتے اور حکومت کو مطلوب جنگجوؤں کو حکومت کے حوالے نہیں کر دیتے۔ لیکن مقتدی الصدر کے ایک ترجمان نے ان تمام شرائط کو رد کر دیا ہے۔ مقتدی الصدر کی طرف سے جمعہ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام فریقین کو ہتھیار ڈال دینے چاہیں اور عراقیوں کو عراقیوں کے خلاف نہیں لڑنا چاہیے۔ تاہم حکومت مسلح گروہوں کو ختم کرنے کے بارے میں سنجیدہ ہے جن میں سے بہت سے گروہ جرائم اور غیر قانونی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ | اسی بارے میں بغداد میں گاڑیوں کی آمدورفت بند09 April, 2008 | آس پاس ’امریکہ ہمیشہ دشمن ہی رہےگا‘12 April, 2008 | آس پاس عراق:حملوں میں کم سے کم 70 ہلاک15 April, 2008 | آس پاس عراق: بم دھماکے میں تیس ہلاک17 April, 2008 | آس پاس مالکی کا علاقائی حمایت کا مطالبہ22 April, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||