عراق: بم دھماکے میں تیس ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں القاعدہ کے خلاف لڑائی میں مارے جانے والے دو افراد کے جنازے میں خود کش بم حملے میں کم از کم تیس لوگ ہلاک ہو گئے ہیں۔ عراق کے شمالی شہر بعقوبہ میں سنی گاؤں بومحمد میں اس وقت دھماکہ ہوا جب دو افراد کو دفنانے کے لیے لوگ قبرستان میں جمع تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مقامی سنی ملیشیا کے ممبر تھے جو عراق میں القاعدہ کے خلاف برسرپیکار ہیں اور ان کو امریکی فوج کی حمایت بھی حاصل ہے۔ حالیہ دنوں میں شمالی عراق کے شہر بعقوبہ میں پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے اور منگل کو ہونے والے تشدد میں پچاس سے زیادہ لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔ ایک عینی شاہد عماد عبداللہ العزاوی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ خود کش بمبار نے اپنے آپکو ایک دھماکے سے اڑا لیا اور ہر طرف لاشیں بکھری پڑی تھیں۔ ایک اور عینی شاہد نے کہا کہ اچانک ایک خیمے سے آگ کا شعلہ نمودار ہوا۔’میں زمین پر گر گیا اور میں نے ہر طرف لاشیں بکھری ہوئی دیکھیں۔‘ علاقے کی کچھ سنی تنتظیمیں عراق میں القاعدہ کے خلاف جنگ میں امریکہ اور عراقی فوجی کی حمایتی ہیں۔ عراقی حکام کا کہنا ہے کہ عراقی مزاحمت کار بغداد سے نکالے جانے کے بعد شمالی عراق میں سرگرم ہیں۔ | اسی بارے میں عراق:حملوں میں کم سے کم 70 ہلاک15 April, 2008 | آس پاس عراق:’عرب ممالک کو آگے آنا ہوگا‘12 April, 2008 | آس پاس فوج کی واپسی پر نظر ثانی کی تجویز09 April, 2008 | آس پاس امریکی فوجی ذہنی دباؤ کےشکار:سروے07 April, 2008 | آس پاس عراق:’خواتین بچوں سمیت بیس ہلاک‘06 April, 2008 | آس پاس عراق: بصرہ میں فضائی حملہ03 April, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||