عراق:’خواتین بچوں سمیت بیس ہلاک‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں طبی کارکنان کے مطابق امریکی فوج اورعراقی جنگجؤوں کے درمیان لڑائی میں بیس لوگ ہلاک ہوگئے ہیں۔ عراقی حکام نے بتایا کہ ہلاک ہونےوالوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ امریکی فوج نے کہا ہے کہ ’نو جرائم پیشہ‘ لوگ ہلاک ہوئے۔ بغداد کے علاقے صدر سٹی میں ہونے والی ان جھڑپوں میں پچاس لوگوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ یہ جھڑپیں مشرقی بغداد میں ہوئیں جو مہدی ملیشیا کا گڑھ مانا جاتا ہے۔ ملیشیا کے سربراہ مقتدیٰ الصدر نے علاقے سے امریکی فوج کے انخلاء کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے صدر کے علاقے میں فضائی کارروائی کی جس میں نو لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ امریکی کمانڈر اس سے پہلے کہتے رہے ہیں کہ ان کی فوج صدر کے علاقے میں ان لوگوں کو نشانہ بناتی ہے جو وہاں سے بغداد کے محفوظ علاقے گرین زون میں مارٹر گولے اور راکٹ فائر کرتے ہیں۔ سنیچر کے روز عراق کے صدر اور وزیر اعظم نے ملیشیاؤں کو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ان رہنماؤں کا اشارہ مہدی ملیشیا کی طرف تھا جس کی حال میں جنوبی عراق میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ شدید لڑائی ہوتی رہی ہے۔ اتوار کو ہی عراق میں سکیورٹی فورسز نے اطلاع دی کہ انہوں نے ان بیالیس طالب علموں کو چند گھنٹوں میں آزاد کروا لیا جنہیں موصل کے قریب مسلح افراد نے اغوا کر لیا تھا۔ اتوار کو عراق میں ہزاروں لوگ پادری یوسف عدل کے جنازے میں بھی شریک ہوئے جنہیں سنیچر کے روز ان کے گھر میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ جنازے میں شریک ایک شخص نے کہا کہ پادری کو قتل کرنے کا مقصد مسلمانوں اور عیسائیوں میں لڑائی شروع کروانا تھا۔ | اسی بارے میں عراق: پندرہ ہلاک، ملیشیا پر چھاپے بند04 April, 2008 | آس پاس ہتھیار نہیں ڈالیں گے: مقتدیٰ الصدر29 March, 2008 | آس پاس بغداد میں کرفیو کے باوجود لڑائی 30 March, 2008 | آس پاس مقتدیٰ الصدر کی جانب سے فائربندی30 March, 2008 | آس پاس عراق: بصرہ میں فضائی حملہ03 April, 2008 | آس پاس عراق: ہلاکتوں میں پھر اضافہ05 March, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||