عراق کیلیے فیصلہ کن لمحہ ہے: بش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے صدر بش نے بصرہ میں عراقی فورسز کی طرف سے مہدی ملیشیا کے خلاف فوجی کارروائی کو ’آزاد عراق کی تاریخ فیصلہ کن لمحہ‘ اور نوری المالکی کی حکومت کے لیے ایک امتحان قرار دیا ہے۔ بغداد میں کرفیو کے باوجود انتہائی سکیورٹی والے علاقے گرین زون پر متعدد حملے ہوئے ہیں جبکہ دوسری طرف بصرہ میں وزیر اعظم نورالمالکی نے مہدی ملیشیا کو پیسے لے کر ہتھیار ڈالنے کے لیے دی گئی مہلت میں مزید دس دن کا اضافہ کردیا ہے۔ تاہم نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ تا حال مختلف ملیشیاؤں نےاس الٹی میٹم کو کوئی اہمیت نہیں دی ہے۔ گزشتہ منگل سے بصرہ میں مہدی ملیشیا اور دوسرے گروہوں کے خلاف جاری عراقی سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں اب تک ایک سو تیس افراد ہلاک اور ساڑھے تین سو کے قریب زخمی ہو چکے ہیں۔ صدر بش نے کہا ہے کہ مسٹر مالکی کی اس کارروائی سے ظاہر ہو گیا ہے کہ وہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے شیعوں اور سُنیوں سے یکساں سلوک کرتے ہیں۔ انہوں نے وائٹ ہاؤس میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’جو بھی حکومت خود کو اکثریت کا نمائندہ سمجھتی ہو اسے اس طرح کے مجرم عناصر اور ایسے لوگوں سے نمٹنا پڑتا ہے جو یہ سمجھتے ہوں کہ وہ قانون سے بالا رہ سکتے ہیں۔ اور یہی کچھ بصرہ میں ہو رہا ہے‘۔ بغداد میں پولیس حکام کے مطابق گرین زون پر راکٹ حملوں میں دو پولیس اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ اہلکار عراق کے نائب صدر طارق الہاشمی کے دفتر کے قریب گرنے والے مارٹر سے زخمی ہوئے۔
امریکی فوجی حکام نے کہا ہے کہ انہوں نے منگل کو ایک حملے میں چھبیس شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ تاہم مقتدی الصدر کے حامیوں نے کہا ہے کہ گزشتہ دو دنوں میں امریکی فوج کے فضائی حملوں میں دس شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ امریکی فوج نے کہا ہے کہ گزشتہ کئی دنوں سے جاری اس لڑائی میں امریکی فوج نے عملی طور پر جمعرات کی رات کو شیعہ ٹھاکانوں پر حملے کر کے حصہ لیا۔ بین الاقوامی امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ عراق میں جاری موجودہ مسلح کشمکش نے ملک میں پہلے سے خراب حالت کو مزید ابتر کر دیا ہے اور صورت حال سنگین ہو گئی ہے۔ بین الاقوامی امدادی اداروں ریڈ کراس، یونسیف اور انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف مائگریشن (آئی ایم او) نے جنیوا میں لڑائی میں شامل فریقین سے کہا کہ وہ خوراک اور ادویات کی متاثر علاقوں تک فراہمی میں مدد کریں۔ آئی ایم او کے مطابق عراق میں اندرونی طور پر بیس لاکھ کے قریب افراد بےگھر ہو چکے ہیں۔ عراقی پارلیمان نے ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے جس میں موجود بحران پر غور کیا جائے گا جس میں بغداد میں تین دن کا کرفیو نافذ کرنا پڑا ہے۔ | اسی بارے میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ28 March, 2008 | آس پاس بصرہ: 130 ہلاک، مہلت میں اضافہ28 March, 2008 | آس پاس سربراہ کانفرنس: عربوں کے اختلافات27 March, 2008 | آس پاس بصرہ: بہّتر گھنٹے کا الٹی میٹم 26 March, 2008 | آس پاس بغداد میں کرفیو، جھڑپیں جاری27 March, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||