BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 26 March, 2008, 23:28 GMT 04:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بصرہ: بہّتر گھنٹے کا الٹی میٹم
بدھ کے روز جنگجو پوزیشنز لیتے ہوئے
ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ بصرہ میں سیکیورٹی فورسز اور مہدی آرمی میں سے کسے برتری حاصل ہو رہی ہے
عراقی وزیراعظم نوری المالکی نے بصرہ میں شیعہ ملیشیا کو ہتھیار ڈالنے کے لیے بہتر گھنٹوں کی مہلت دی ہے اور کہا ہے کہ بصورت دیگر انہیں ’کڑی قیمت‘ ادا کرنی پڑے گی۔

مسٹر مالکی نے یہ دھمکی مہدی آرمی کے شیعہ جنگجوؤں کے خلاف جاری اس کارروائی کے دوسرے دن دی ہے جس میں اب تک شدید جھڑپوں کے نتیجے میں چھیالیس افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔


اس دھمکی کے جواب میں مہدی ملیشیا کے رہنما نے کہا ہے کہ مسٹر مالکی بصرہ سے جائیں اور مذاکرات شروع کریں۔

یہ جھڑپیں عراقی دارالحکومت بغداد کے محفوظ ترین علاقے گرین زون تک پھیل چکی ہیں اور ان میں بغداد میں واقع صدر سٹی شامل ہے۔

بصرہ کے کئی اضلاع میں کرفیو لگا دیا گیا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کے لیے بی بی سی تجزیہ نگار راجر ہارڈی کا کہنا ہے کہ بصرہ کی جھڑپوں میں شدت پسندوں اور جرائم پیشہ لوگوں کے مختلف النوع گروہ بھی شامل ہیں تاہم حکومت کی اب تک ظاہر نہ کی جانے والی خواہش یہ ہے کہ ان سب کی قیادت مہدی آرمی کے ہاتھوں میں نہ جائے۔

دو روز کے بعد بصرہ میں خاموشی کی پہلی رات ہے۔

اس سے پہلے کی ملنے والی اطلاعات کے مطابق مقتدی الصدر کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد اکتوبر کے صوبائی انتخابات سے قبل انہیں کمزور کرنا ہے۔ جب کہ راجر ہارڈی کا کہنا ہے کہ المالکی کی حکمتِ عملی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق اگر مقتدی الصدر کی جانب سے پچھلے ایک برس سے جاری فائربندی ختم کر دی جاتی ہے تو اس سے عراقی حکومت اور بش انتظامیہ کے ان دعووں کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی کہ عراق میں خانہ جنگی کا خاتمہ ہو رہا ہے اور ملک اب سیاسی مفاہمت کی طرف روانہ ہے۔

سکیورٹی فورسز تشدد سے متاثرہ علاقوں میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو جانے نہیں دے رہی ہے اس لیے یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اس لڑائی میں کسے برتری حاصل ہو رہی ہے۔

سرکاری اہلکار کرنل کریم الزیدی نے امریکی خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز کو شہر کے مرکزی علاقوں میں مہدی آرمی کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد