برطانوی فوج بصرہ سے بھاگی:الظواہری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری نے کہا ہے کہ بصرہ سے برطانوی فوج کا 'بھاگنا' مزاحمت کاروں کی کامیابی کاثبوت ہے۔ ایمن الظواہری نے ایک ویب سائٹ پر نشر کیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ عراق میں امریکہ کی قیادت میں کام کرنے والی طاقتوں کو شکست کا سامنا ہے اور وہ ملک سے بھاگنے کے بہانے تلاش کر رہی ہیں۔ عراق نے اتوار کو بصرہ میں سکیورٹی کی باضابطہ ذمہ داری سنبھال لی ہیں۔ عراق میں موجود ساڑھے چار ہزار برطانوی فوجی اب مقامی فوج کے اہلکاروں کی تربیت پر توجہ دیں گے۔ الظواہری نے نوّے منٹ جاری رہنے والے اس انٹرویو میں کہا کہ پوری دنیا عراق میں امریکہ کی ناکامی دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراق سے ملنے والی اطلاعات ’مجاہدین‘ کی بڑھتی ہوئی طاقت کی خبر دیتی ہیں۔ انہوں نے ان سنی عرب قبائل کو ’غدار‘ کہا جو امریکہ اور عراقی افواج کے ساتھ مل کر القاعدہ کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے رشوت کے ڈھیر لگا دیے ہیں اور اس کی مدد سے وہ ’عراقی اسلامی ریاست‘ میں، جس کی ایک رکن تنظیم القاعدہ بھی ہے، اپنے ایجنٹ داخل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہوگا جو ایسے کام کر رہے ہیں جس سے عام عراقی ’ہم‘ سے دور ہو رہے ہیں۔ | اسی بارے میں اگلا نشانہ اسرائیل، خلیجی ریاستیں‘11 September, 2006 | آس پاس ایمن الظواہری کی تازہ ویڈیو ٹیپ 30 January, 2006 | آس پاس مشرف کو ہٹا دیں: ایمن الظواہری29 April, 2006 | آس پاس الظواہری کا نیا ویڈیو پیغام02 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||