بصرہ کی سکیورٹی سےدستبردار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں تعینات برطانوی فوجی بصرہ میں سکیورٹی کی ذمہ داریوں سے دستبردار ہو رہے ہیں۔ برطانوی فوجیوں کے بصرہ سے انخلاء کو عراق سے مکمل انخلاء کی طرف ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بصرہ برطانوی فوجیوں کے کنٹرول میں چار صوبوں میں سے آخری صوبہ تھا۔ بصرہ کے ہوائی اڈے پر موجود ساڑھے چار ہزار برطانوی فوجی اب عراقی فوجیوں کی تربیت پر توجہ دیں گے۔ آئندہ سال ان برطانوی فوجیوں کی تعداد کم ہو کر ڈھائی ہزار رہ جائے گی۔ برطانوی کمانڈروں کا کہنا ہے کہ انہیں بصرہ میں کچھ کامیابی ہوئی ہے لیکن کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بصرہ کے شہریوں کو مخالف شیعہ تنظیموں اور دیگر مجرم عناصر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ بی بی سی نے حال ہی میں ایک سروے کروایا تھا جس میں شامل پچاسی فیصد افراد نے کہا تھا کہ برطانوی فوجیوں کی بصرہ میں موجودگی کا منفی اثر ہوا ہے۔ | اسی بارے میں عراق سےفوج کی واپسی: اعلان متوقع21 February, 2007 | آس پاس ’عراق،افغانستان سے واپسی ٹھیک نہیں‘26 September, 2006 | آس پاس بُش: عراق سے واپسی کا ِبل ویٹو01 May, 2007 | آس پاس ساٹھ ہزار فوجیوں کی واپسی کااشارہ15 September, 2007 | آس پاس برطانوی فوجیوں کی واپسی کا فیصلہ08 October, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||