بصرہ کا انتظام عراقی فوج کےحوالے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی فوج نے ساڑھے چار برس بعد عراق کے جنوبی شہر بصرہ کا کنٹرول عراقی حکام کے حوالے کر دیا ہے۔ دو ہزار تین میں عراق پر حملے کے وقت سے بصرہ پر برطانوی فوجوں کا کنٹرول تھا۔ بصرہ کو عراقی حکام کے حوالے کرنے کے ساتھ ہی برطانوی فوجوں کا عراق سے حتمی انخلاء بھی شروع ہوگيا ہے۔ دو ہزار تین میں میجر جنرل گراہم بن کی قیادت میں برطانوی فوجیں عراق میں داخل ہوئی تھیں۔ حوالگی کے موقع پر بصرہ کی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر بن نے کہا’ یہ اپنی طاقت دوبارہ حاصل کرنے لگا ہے۔‘ عراق میں سلامتی امور کے مشیر ڈاکٹر موفق الربیع نے کہا ’یہ تاریخی دن عراقیوں کی فتح کا مظہر ہے۔‘ اختیارات کی حوالگی کے لیے ایک باقاعدہ تقریب میں فریقین کی جانب سے ایک یاداشت پر دستخط کیے گئے۔ ڈاکٹر ربیع نے اس موقع پر شورش پسندوں سے شہر کو محفوظ رکھنے، عراقی سکیورٹی دستوں کی مدد اور شہر کی معاشی حالات بہتر کرنے کے لیے برطانوی فوج کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بصرہ کے ان تمام باسیوں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اپنی قربانیاں پیش کیں تھیں۔ اب بصرہ کی سلامتی اور شورش پر قابو پانے کی ذمہ داری عراقی فوج کی ہوگی اور برطانوی فوج کا کردار ثانوی ہوگا۔ اگر برطانوی فوج پر حملہ ہوا تو وہ اس کا جواب دے گی یا پھر ضرورت پڑنے پر وہ کسی بھی مورچے پر عراقی فوج کی مدد کے لیے تیار ہو گی، لیکن فیصلے عراقی حکام کو کرنے ہوں گے۔ میجر جنرل بن نے کہا کہ عراقی سلامتی دستوں نے یہ تو ثابت کر دیا ہے کہ وہ اب حالات پر کنٹرول کرسکتے ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ حالیہ تشدد میں آئی کمی برقرار رہے اور اس میں بہتری آئے۔ میجر بن نے کہا’ ہم یہاں بصرہ کو اس کے دشمنوں سے نجات دلانے آئے تھے اور اب ہم نے اسے باقاعدہ طور پر اس کے دوستوں کے حوالے کر دیا ہے۔‘ بصرہ میں موجود ساڑھے چار ہزار برطانوی فوج کی اب زیادہ تر توجہ عراقی فوجیوں کو تربیت دینے پر ہوگی اور امکان ہے کہ آئندہ موسم بہار تک عراق میں صرف ڈھائی ہزار برطانوی فوجی رہ جائیں گے۔ بوسینا میں اقوام متحدہ کی فوج کے قائد سابق برطانوی کمانڈر کرنل باب اسٹیورٹ کا کہنا ہے کہ عراق میں برطانوی فوج کی صرف یہی ایک کامیابی ہے کہ وہ صدام حسین کو اقتدار سے ہٹا سکی۔’ ہم نے صدام حسین سے تو چھٹکارا حاصل کر لیا لیکن عراقیوں کو اچھی زندگی نہیں دے سکے، اگر بصرہ کی زندگی کو ایک سے دس کے درجے میں دیکھا جائے تو اسے صرف تین نمبر ملیں گے۔‘ کچھ عرصہ پہلے بی بی سی نے بصرہ میں ایک سروے کیا تھا جس کے مطابق تقریباً پچاسی فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ برطانوی فوج کی موجودگی سے منفی اثر پڑا ہے۔ برطانیہ میں میں بھی عراق میں فوج بھیجنے کے خلاف کافی آوازیں اٹھی تھیں۔ | اسی بارے میں عراق میں فوج کم کریں گے: بلیئر21 February, 2007 | آس پاس عراق: ’خون خرابے کےذمہ دارنہیں‘22 February, 2007 | آس پاس برطانوی فوجیوں نے’اعتراف‘ کرلیا24 March, 2007 | آس پاس برطانوی فوجی ’ہشاش بشاش‘ ہیں26 March, 2007 | آس پاس عراقی مفاہمت کے لیے امریکی اپیل03 December, 2007 | آس پاس ’زندگی اِک بند گلی‘04 December, 2007 | آس پاس ’برطانوی فوج کا منفی اثر پڑا‘15 December, 2007 | آس پاس بصرہ کی سکیورٹی سےدستبردار16 December, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||