BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 03 December, 2007, 05:49 GMT 10:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراقی مفاہمت کے لیے امریکی اپیل
نیگروپونٹے
امریکی نائب وزیرِ خارجہ عراق کے چھ روزہ دورے پر آئے ہوئے تھے
امریکی نائب وزیرِ خارجہ جان نیگروپونٹے نے کہا ہے کہ عراقی رہنماؤں کو چاہیئے کہ وہ ملک میں سکیورٹی کی بہتر حالت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مفاہمتی عمل میں تیزی لائیں۔

جان نیگروپونٹے نے خبردار کیا کہ اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام ہوئے تو خطرہ ہے کہ عراق ماضی کی طرح کے مزید تشدد کی طرف واپس چلا جائے۔

امریکی نائب وزیرِ خارجہ نے یہ بات بغداد میں چھ روزہ دورے کے اختتام پر ایک نیوز کانفرنس میں کہی۔

انہوں نے کہا کہ فروری سے کیے جانے والے امریکی فوج میں اضافے کے نمایاں نتائج نظر آئے ہیں۔

اس سے قبل پارلیمان کے سنی اراکین نے دوسرے روز بھی پارلیمان کا بائیکاٹ جاری رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ احتجاج اپنے ایک سرکردہ رہنما عدنان الدولیئمی کی ان کے گھر میں نظر بندی پر کر رہے ہیں۔

اس کے بعد الدولیئمی کو ان سے گھر سے گرین زون میں واقع ایک ہوٹل میں منتقل کر دیا گیا۔

عراقی حکومت نے کہا ہے کہ یہ اقدام سنی رہنما کو بہتر سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے کیونکہ جمعہ کو ان کے ایک محافظ سے اس کار کی چابی برآمد ہوئی تھی جس میں بم موجود تھا۔

الدولیئمی نے کار میں بم سے کسی بھی قسم کے تعلق سے انکار کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ انہیں ہلاک کرنے کی ایک سازش ہو سکتی ہے۔

’تباہی کے دہانے پر‘
عراق تقسیم کی جانب جا رہا ہے: تھِنک ٹینک
امریکی فوجی’تشدد کرنا جائز ہے‘
’امریکی فوجی عراقیوں پر تشدد کے حامی‘
 عراق ’کامیابی پر واپسی‘
عراق فوجیوں کی واپسی اعلان یا صرف دکھاوا؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد