عراقی مفاہمت کے لیے امریکی اپیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی نائب وزیرِ خارجہ جان نیگروپونٹے نے کہا ہے کہ عراقی رہنماؤں کو چاہیئے کہ وہ ملک میں سکیورٹی کی بہتر حالت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مفاہمتی عمل میں تیزی لائیں۔ جان نیگروپونٹے نے خبردار کیا کہ اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام ہوئے تو خطرہ ہے کہ عراق ماضی کی طرح کے مزید تشدد کی طرف واپس چلا جائے۔ امریکی نائب وزیرِ خارجہ نے یہ بات بغداد میں چھ روزہ دورے کے اختتام پر ایک نیوز کانفرنس میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ فروری سے کیے جانے والے امریکی فوج میں اضافے کے نمایاں نتائج نظر آئے ہیں۔ اس سے قبل پارلیمان کے سنی اراکین نے دوسرے روز بھی پارلیمان کا بائیکاٹ جاری رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ احتجاج اپنے ایک سرکردہ رہنما عدنان الدولیئمی کی ان کے گھر میں نظر بندی پر کر رہے ہیں۔ اس کے بعد الدولیئمی کو ان سے گھر سے گرین زون میں واقع ایک ہوٹل میں منتقل کر دیا گیا۔ عراقی حکومت نے کہا ہے کہ یہ اقدام سنی رہنما کو بہتر سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے کیونکہ جمعہ کو ان کے ایک محافظ سے اس کار کی چابی برآمد ہوئی تھی جس میں بم موجود تھا۔ الدولیئمی نے کار میں بم سے کسی بھی قسم کے تعلق سے انکار کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ انہیں ہلاک کرنے کی ایک سازش ہو سکتی ہے۔ |
اسی بارے میں عراق: بم دھماکے میں 33ہلاک06 May, 2007 | آس پاس عراق: صدر بلاک حکومت سےعلیحدہ16 September, 2007 | آس پاس عراق: شیعہ رہنماؤں میں امن معاہدہ07 October, 2007 | آس پاس عراق تشدد میں تیس افراد ہلاک17 September, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||