’زندگی اِک بند گلی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شام کے دارالحکومت دمشق کے مارابہ ڈسٹرکٹ کی گلیوں میں دمکتے برقی قمقموں اور دیگر آرائشی اشیاء سے مزین درجنوں نائٹ کلب موجود ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں صرف شام ہی نہیں بلکہ سعودی عرب اور عراق سے لوگ نوجوان لڑکیوں کا رقص دیکھنے آتے ہیں۔ ان نائٹ کلبوں میں رقص کرنے والی زیادہ تر لڑکیاں نوعمر ہیں اور ان میں سے بیشتر عراقی مہاجر ہیں جو اس رقم کے لیے یہ پیشہ اپنانے پر مجبور ہیں جو دورانِ رقص ان پر نچھاور کی جاتی ہے۔ ان رقاصاؤں کے اردگرد محافظ تعینات ہوتے ہیں تاکہ کوئی مرد انہیں چھو نہ سکے لیکن یہی محافظ کے عوض تماش بینوں کو جنسی اختلاط کے مواقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ گزشتہ چار برس کے دوران لاکھوں عراقی پناہ گزین شام اور اردن کی جانب نقل مکانی کر چکے ہیں اور ان میں بہت سے خاندان ایسے ہیں جہاں خاندان کی کفالت کی ذمہ دادی کسی خاتون کے کندھوں پر ہے۔ شامی حکام اور امدادی ادارے ایسی خواتین کی اصل تعداد نہیں جانتے لیکن ان میں سے بہت سی خواتین کا کہنا ہے کہ ان کے پاس مارابہ ڈسٹرکٹ جیسی جگہ پر کام کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ بالوں کو’پونی ٹیل‘ میں باندھے چودہ سالہ معصوم صورت رفیف بھی انہی لڑکیوں میں سے ایک ہے جنہیں ان سنگین حالات کا اندازہ نہیں جس میں وہ جی رہی ہیں۔ ’میری تین بہنیں ہیں جو شادی شدہ ہیں اور چار بھائی ہیں۔ وہ سب بغداد میں ہیں۔ میں یہاں اپنی والدہ اور چھوٹے بھائی کے ساتھ آئی ہوں اور میرے خاندان میں سب اس سے لاعلم ہیں کہ میں یہاں کیا کرتی ہوں‘۔ رفیف کے مطابق شام میں پناہ گزینوں کے کام کرنے پر پابندی کی وجہ سے جلد ہی ان کے پاس موجود رقم ختم ہوگئی اور اس کی والدہ نے کمائی کے دیگر ذرائع کی تلاش شروع کی۔ اس کا کہنا ہے کہ ’ایک عورت میری ماں کے پاس آئی اور اس سے بات کی جس پر میری ماں مجھے ان جگہوں پر بھیجنے کو تیار ہوگئی۔ ہمیں پیسوں کی ضرورت تھی۔ مجھے اس پیشے کی وجہ سے ایک مرتبہ گرفتار کر کے واپس عراق بھی بھیجا جا چکا ہے لیکن میں ایک جعلی پاسپورٹ پر پھر واپس آ گئی‘۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ ایک رات میں تیس ڈالر تک کما لیتی ہے لیکن جب اسے نجی بنگلوں میں لے جایا جاتا ہے تو یہ رقم سو ڈالر تک جا پہنچتی ہے۔ تاہم رفیف یہ بتانے کو تیار نہیں کہ یہ رقم کمانے کے لیے اسے کیا کرنا ہوتا ہے۔ اس پیشے سے منسلک تمام سیکس ورکرز اپنی مرضی سے اس کام کے لیے تیار نہیں ہوتیں۔ سولہ سالہ ندا کے مطابق اس کے والد نے اسے عراق اور شام کی سرحد پر تنہا چھوڑ دیا کیوں کہ ندا کے ایک کزن نے اس کی عزت لوٹ لی تھی۔ پانچ عراقی مرد اسے سرحد سے دمشق لے آئے جہاں انہوں نے اس سے جنسی زیادتی کی اور پھر اسے ایک ایسی عورت کے ہاتھوں فروخت کر دیا جس نے اسے نجی بنگلوں اور نائٹ کلبوں میں ناچنے پر مجبور کیا۔ ندا اب ایک حکومتی حفاظتی مرکز میں عراق واپس بھیجے جانے کی منتظر ہے۔ شام کی حکومت کا کہنا ہے کہ پولیس نے نائٹ کلبوں میں بطور طوائف کام کرنے والی ایسی عراقی لڑکیوں کو بھی گرفتار کیا ہے جن کی عمر صرف بارہ برس ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کی لارنز جولیس کے مطابق’ ہمیں بہت سی ایسی خواتین کے بارے میں پتہ چل رہا ہے جو اخراجات پورا نہ کر پانے کی وجہ سے استحصال کا شکار ہو کر جسم فروشی جیسے پیشے سے منسلک ہو جاتی ہیں‘۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ’ شرم اور خوف وہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے حکومت اور امدادی ادارے شام میں جسم فروشی کے دھندے میں ملوث افراد کی اصل تعداد جاننے میں ناکام رہے ہیں‘۔ لارنز جولیس کے مطابق’ جب ہم ان لڑکیوں تک پہنچ پاتے ہیں یا کبھی اس سے بھی پہلے وہی لوگ انہیں ضمانت پر رہا کروا لیتے ہیں جو انہیں جسم فروشی کے پیشے میں لانے کے ذمہ دار ہیں‘۔ عراق سے نقل مکانی کرنے والی بہت سی جوان خواتین کے ذہن میں ایک آسان زندگی کا خاکہ ہوتا ہے لیکن ان حالات میں انہیں پتہ چلتا ہے کہ شام میں زندگی مزید مشکل ہے۔ عمر کے اس حصے میں جہاں زندگی میں نئی راہیں تلاش کرنے کا وقت ہوتا ہے ندا جیسی عراقی لڑکیوں کے خیال میں ’وہ ایک بند گلی میں پہنچ گئی ہیں‘۔ ندا کہتی ہیں’اب وہ مجھے واپس عراق بھیج دیں گے۔ میرا وہاں کوئی نہیں اور میری جان کو بھی خطرہ ہے۔ یہاں سے جا کر میری کوئی امید باقی نہیں رہے گیگ میں نے حکومت کو بھی بتا دیا ہے کہ میں واپس جانا نہیں چاہتی۔ میرے گھر والے مجھے ٹھکرا چکے ہیں‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||