بغداد میں کرفیو، جھڑپیں جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے جنوبی شہر بصرہ میں عراقی فوج اور مہدی ملیشیا کے مابین تیسرے دن بھی شدید لڑائی جاری ہے۔ عراق کے دارالخلافہ بغداد اور قوت میں بھی پر تشدد جھڑپیں ہوئی ہیں۔ عراقی فوجی ترجمان کے مطابق حکام نے بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر بغداد میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ بصرہ میں شیعہ ملیشیا کے خلاف عراقی فوج کی کارروائی کے بعد تشدد کے واقعات میں اب تک ستر سے زائد لوگ ہلاک جبکہ سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ بغداد کے جنوب میں واقع شہر بصرہ اور ہلہ کے قصبے میں دونوں اطراف سے شدید فائرنگ کی اطلاعات موصو ل ہورہی ہیں۔ عراقی وزیراعظم نوری المالکی نے بدھ کے روز بصرہ میں شیعہ ملیشیا کو ہتھیار ڈالنے کے لیے بہتر گھنٹوں کی مہلت دی تھی اور کہا تھا کہ بصورت دیگر انہیں ’ کڑی قیمت‘ ادا کرنی پڑے گی۔ اس دھمکی کے جواب میں مہدی ملیشیا کے رہنما نے کہا ہے کہ مسٹر مالکی بصرہ سے جائیں اور مذاکرات شروع کریں۔ بصرہ کے ایک پولیس افسر عبدالجلیل خلف کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ رات ایک قاتلانہ حملے میں بچ نکلے تاہم ان کے تین محافظ اس حملےمیں ہلاک ہوگئے ہیں۔ بصرہ کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ شہر میں پینے کا پانی اور خوراک کی قلت ہورہی ہے۔ ایک رہائشی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عراقی فوجی دکانیں توڑ کر خوراک اور پانی کی بوتلیں نکال لیتے ہیں اور بعد میں دکانوں اور سڑکوں پر کھڑی گاڑیوں کو آگ لگا دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’میں اس وقت کھڑکی سے باہر دیکھنے کی کوشش کر رہا ہوں لیکن باہر اتنا دھواں اور بدبو پھیلی ہوئی ہے کہ ایسا کرنا ممکن نہیں۔ سب کچھ جل چکا ہے۔‘ عراقی شہر بصرہ میں شروع ہونے والی یہ جھڑپیں دارالحکومت بغداد کے محفوظ ترین علاقے گرین زون تک پھیل چکی ہیں۔ بصرہ کے کئی اضلاع میں کرفیو لگا دیا گیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے لیے بی بی سی تجزیہ نگار راجر ہارڈی کا کہنا ہے کہ بصرہ کی جھڑپوں میں شدت پسندوں اور جرائم پیشہ لوگوں کے مختلف النوع گروہ بھی شامل ہیں تاہم حکومت کی اب تک ظاہر نہ کی جانے والی خواہش یہ ہے کہ ان سب کی قیادت مہدی آرمی کے ہاتھوں میں نہ جائے۔ اس سے قبل ملنے والی اطلاعات کے مطابق مقتدی الصدر کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد اکتوبر کے صوبائی انتخابات سے قبل انہیں کمزور کرنا ہے۔ جب کہ راجر ہارڈی کا کہنا ہے کہ المالکی کی حکمتِ عملی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق اگر مقتدی الصدر کی جانب سے پچھلے ایک برس سے جاری فائربندی ختم کر دی جاتی ہے تو اس سے عراقی حکومت اور بش انتظامیہ کے ان دعووں کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی کہ عراق میں خانہ جنگی کا خاتمہ ہو رہا ہے اور ملک اب سیاسی مفاہمت کی طرف روانہ ہے۔ سکیورٹی فورسز تشدد سے متاثرہ علاقوں میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو جانے کی اجازت نہیں دے رہی ہے اس لیے یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اس لڑائی میں کسے برتری حاصل ہو رہی ہے۔ سرکاری اہلکار کرنل کریم الزیدی نے امریکی خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز کو شہر کے مرکزی علاقوں میں مہدی آرمی کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ | اسی بارے میں عراق سےفوج کی واپسی: اعلان متوقع21 February, 2007 | آس پاس ’برطانوی فوج کا منفی اثر پڑا‘15 December, 2007 | آس پاس بصرہ کی سکیورٹی سےدستبردار16 December, 2007 | آس پاس بصرہ کا انتظام عراقی فوج کےحوالے16 December, 2007 | آس پاس برطانوی فوج بصرہ سے بھاگی:الظواہری17 December, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||