BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 March, 2008, 15:04 GMT 20:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہتھیار نہیں ڈالیں گے: مقتدیٰ الصدر
کئی شیعہ اکثریتی علاقے مہدی آرمی کا گڑھ ہیں
عراق میں سخت گیر شیعہ رہنما مقتدی الصدر کی مہدی ملیشیا نے ہتھیار ڈالنے کی عراقی حکومت کی اپیل مسترد کردی ہے۔

مہدی ملیشیا کے ایک سینیئر اہلکار حارث الاطہری نے بصرہ میں بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس عراقی حکومت کے سامنے ہتھیار ڈالیں گے جو عراق میں امریکہ کے قبضے کو ختم کرے گي۔

عراق کے شہر نجف میں واقع مہدی ملیشیا کے ہیڈکوارٹر کے ایک اہلکار حیدر الجباری نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہیں ہتھیار نہ ڈالنے کا حکم دیا گیا ہے۔انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ’مقتدی الصدر نے ہمیں اس وقت تک ہتھیار نہ ڈالنے کے لیے کہا ہے جب تک ملک سے امریکہ کو باہر نہ پھینک دیا جائے۔‘

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس بیان سے یہ بات صاف ہوتی ہے کہ مہدی ملیشیا مالکی حکومت کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گی۔ عراق کی سکیورٹی فورسز بصرہ اور ديگر شیعہ علاقوں میں مہدی ملیشیا پر قابو پانے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ منگل سے اب تک اس لڑائی میں پورے عراق میں کم از کم دو سو ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔

امریکہ کے صدر جارج بش نے بصرہ میں عراقی فورسز کی طرف سے مہدی ملیشیا کے خلاف فوجی کارروائی کو ’آزاد عراق کا تاریخ فیصلہ کن لمحہ‘ اور نوری المالکی کی حکومت کے لیے ایک امتحان قرار دیا ہے۔

اس دوران امریکہ کے جنگی طیاروں نے بصرہ پر کئی ہوائی حملے کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

فائل فوٹو
عراقی حکومت کا کہنا ہے کہ عراقی فوج تب تک بصرہ نہیں چھوڑے جب تک سکیورٹی بحال نہیں ہوتی

اطلاعات کے مطابق ایسے ہی پوری رات جاری رہنے والے ایک ہوائی حملے میں کم از کم سات افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ عراقی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے عام شہری تھے لیکن امریکہ کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

جمعہ کو بھی امریکہ کے جنگی طیاروں نے بغداد کے صدر سٹی کے علاقے پر بمباری کی تھی۔ اس علاقے میں سب سے زیادہ تشدد کے واقعات ہورہے ہیں۔وہیں شیعہ اکثریت والے کربلا، حلہ اور ناصریہ جیسے علاقوں میں تازہ جھڑپیں شروع ہوگئی ہیں۔

بغداد میں کرفیو کے باوجود انتہائی سکیورٹی والے علاقے گرین زون پر متعدد حملے ہوئے ہیں جبکہ دوسری طرف بصرہ میں وزیر اعظم نوری المالکی نے مہدی ملیشیا کو پیسے لے کر ہتھیار ڈالنے کے لیے دی گئی مہلت میں مزید دس دن کا اضافہ کر دیا ہے۔

بصرہ میں جاری لڑائی شہر کے ديگر علاقوں میں پھیل گئی ہے۔عراقی فوج علاقوں میں ٹینکوں اور بکتربندگاڑیوں کے ساتھ امریکی اور برطانوی طیاروں کے سائے میں گھوم رہی ہیں۔

وزیراعظم نورالمالکی کا کہنا ہے کہ فوج اس وقت تک بصرہ نہیں چھوڑے گی جب تک وہاں سیکورٹی بحال نہ ہوجائے۔ انہوں نے ایک سرکاری ٹی وی چینل کو بتایا تھا کہ ’ہم عراق کے کونے کونے میں ان گروہوں کا سامنا کریں گے۔ یہ ایک فیصلہ کن اور آخری لڑائی ہے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد