BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 March, 2008, 13:17 GMT 18:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مقتدیٰ الصدر کی جانب سے فائربندی
بغداد کے علاقے صدر سٹی میں کافی تباہی ہوئی ہے
شیعہ ریڈیکل رہنما مقتدیٰ الصدر نے اپنی مہدی ملیشیا کے جنگجوؤں سے کہا ہے کہ وہ بصرہ اور دیگر عراقی شہروں میں حکومتی افواج کے خلاف لڑائی فوری طور پر بند کردیں۔

ایک بیان میں مقتدیٰ الصدر نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ عراقی عوام اپنے ملک کے استحکام اور آزادی کے لیے تشدد روک دیں۔ عراق میں منگل سے حکومتی افواج اور مہدی ملیشیا کے درمیان ہونے والی لڑائی میں دو سو چالیس افراد سے زائد ہلاک ہوچکے ہیں۔

اس سے قبل مقتدیٰ الصدر نے حکومت کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کی ایک ڈیڈلائن مسترد کردی تھی اور بغداد میں جمعرات سے کرفیو کے نفاذ کے باوجود لڑائی جاری تھی۔

عراقی پولیس کے مطابق اتوار کو بغداد کے کئی اضلاع میں سکیورٹی فورسز اور شیعہ ملیشیا کے جنگجوؤں کے مابین لڑائی پھر سے شروع ہوگئی تھی۔ بغداد میں صرف گزشتہ تین دنوں میں ایک سو سترہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ لڑائی کا مرکز شیعہ علاقے ہیں، بالخصوص بغداد کا صدر سٹی جسے مہدی ملیشیا کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

بصرہ
بصرہ میں بمباری کے دوران عراقی خواتین کی آہ زاری
مقتدیٰ الصدر کے اس اعلان کے بعد کہ وہ عراقی وزیراعظم کی جانب سے دیے گئے الٹی میٹم کے باوجود ہتھیار نہیں ڈالیں گے، بغداد میں نافد کرفیو میں غیرمعینہ عرصے کی توسیع کر دی گئی تھی۔

اتوار کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق جنوبی شہر بصرہ کے بیشتر علاقوں پر مہدی ملیشیا کا کنٹرول برقرار ہے اور وہاں ہونے والی لڑائی میں امریکی اور برطانوی افواج نے بھی شرکت کی۔ بتایا گیا ہے کہ برطانوی افواج نے بصرہ میں جنگجوؤں کے ان ٹھکانوں پو توپخانے سے گولہ باری کی جہاں سے عراقی افواج پر گولہ باری کی جاری تھی۔

یہ پہلا موقع ہے کہ بصرہ میں عراقی افواج اور شیعہ ملیشیاؤں کے مابین جاری جنگ میں عراق میں موجود کسی غیرملکی فوج نے حصہ لیا ہو۔ بصرہ میں عراق میں برطانوی افواج کے ترجمان نے کہا ہے کہ کارروائی کامیاب ثابت ہوئی ہے۔

اس دوران یہ خبریں بھی ملی ہیں کہ امریکی طیاروں نے بصرہ پر حملے کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہےکہ وہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

وزیر اعظم نوری المالکی نے مہدی ملیشیا کو پیسے لے کر ہتھیار ڈالنے کے لیے پہلے بہّتر گھنٹے یا تین دن کی مہلت دی تھی اور کہا تھا کہ اگر اس مدت میں ہتھیار نہیں ڈالے گئے تو نتائج کی ذمہ داری ہتھیار نہ ڈالنے والوں پر ہوگی لیکن اس کے بعد اس مہلت میں مزید دس دن کی توسیع کر دی گئی تھی۔

بصرہ میں لڑائی
مہدی آرمی اورسرکاری فورسزمیں لڑائی
وڈیو:’فرینڈلی فائر‘
عراق میں ’فرینڈلی فائر‘ کی وڈیو: دی سن
مظاہروں کی ویڈیو
بصرہ میں برطانوی فوج اورمظاہرین میں جھڑپیں
بصرہ میں تشدد
عراقیوں اور برطانوی فوج کے درمیان جھڑپیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد