 | | | برطانوی فوجی میٹی ہل |
برطانوی اخبار ’دی سن‘ نے امریکی طیارے کے کاک پِٹ کی ایک وڈیو حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے جس میں اس طیارے سے عراقی شہر بصرہ میں برطانوی فوجیوں پر فائرنگ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ برطانوی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ یہ وڈیو ایک حالیہ مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت میں دکھائی بھی جا سکتی ہے۔ امریکہ کے اس ’فرینڈلی فائر‘ میں ایک برطانوی فوجی ہلاک ہوگیا تھا اور اب یہ معاملہ برطانوی عدالت میں زیرسماعت ہے۔ پچیس سالہ فوجی میٹی ہل کی ہلاکت کی تفتیش کی جارہی ہے۔ برطانوی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ وڈیو امریکی قوانین کے تحت ’خفیہ‘ قراردی گئی ہے اس لیے عدالت میں پیش نہیں کی جاسکتی۔ گزشتہ ہفتے یہ سماعت اس وقت روک دی گئی جب ہلاکت کی تفتیش کرنے والے افسر نے بتایا کہ اس مقدمے میں یہ وڈیو مرکزی اہمیت رکھتی ہے۔ دی سن نے وڈیو میں کی جانے والی امریکی فوجیوں کی بات چیت شائع کی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ وڈیو بعد میں دیگر ذرائع ابلاغ کو فراہم کی جائے گی۔ اخبار کےمطابق یہ وڈیو مارچ 2003 میں بصرہ میں امریکی طیارے سے کی کی جانے والی فائرنگ کی ہے۔ گزشتہ ہفتے جب برطانوی فوجی میٹی ہل کی بیوہ سوزن کو اس وڈیو کی حقیقت معلوم ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ یہ کافی ’ذلت‘ کی بات ہے کہ وزارت دفاع نے انہیں یقین دلایاتھا کہ اس طرح کی کسی وڈیو کا وجود نہیں ہے۔ ہلاکت کی تفتیش کرنے والے افسر اینڈریو واکر نے وزارت دفاع پر یہ وڈیو انہیں فراہم نہ کرنے پر شدید تنقید کی ہے۔ وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یہ وڈیو امریکہ نے انہیں صرف وزارت دفاع کی تحقیقات کے لیے فراہم کی ہے۔ وزارت دفاع کے ایک بیان میں کہا گیاہے کہ میٹی ہل کے اہل خانہ کو بتایا گیا تھا کہ کچھ ’خفیہ‘ مواد ظاہر نہیں کیا گیا ہے لیکن اس کی ’نوعیت‘ نہیں بتائی گئی تھی۔ امریکی وزارت دفاع پینٹاگون کی ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ امریکی حکومت زیرتفتیش معاملات کی دستاویزات کبھی بھی جاری نہیں کرتی ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت اس وڈیو کے اخبار کے ہاتھ لگنے کی ’ذمہ داری‘ کو ’مجرمانہ‘ قرار دے گی۔
|