BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 March, 2008, 10:36 GMT 15:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بغداد میں کرفیو کے باوجود لڑائی
بغداد کے علاقے صدر سٹی میں کافی تباہی ہوئی ہے
عراقی پولیس کے مطابق بغداد کے کئی اضلاع میں سکیورٹی فورسز اور شیعہ ملیشیا کے جنگجوؤں کے مابین لڑائی پھر سے شروع ہوگئی ہے۔

پولیس کے مطابق حکومتی افواج اور مقتدیٰ الصدر کی مہدی ملیشیا کے درمیان اس لڑائی میں گزشتہ تین دنوں میں ایک سو سترہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

تشدد کے تازہ واقعات جمعرات سے بغداد میں غیرمعینہ مدت کے لیے نافذ ہونے والے کرفیو کے باوجود ہو رہے ہیں۔ لڑائی کا مرکز شیعہ علاقے ہیں، بالخصوص بغداد کا صدر سٹی جسے مہدی ملیشیا کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

مقتدیٰ الصدر کے اس اعلان کے بعد کہ وہ عراقی وزیراعظم کی جانب سے دیے گئے الٹی میٹم کے باوجود ہتھیار نہیں ڈالیں گے، بغداد میں نافد کرفیو میں غیرمعینہ عرصے کی توسیع کر دی گئی ہے۔

ادھر عراق کے جنوبی شہر بصرہ کے بیشتر علاقوں پر مہدی ملیشیا کا کنٹرول برقرار ہے اور وہاں ہونے والی لڑائی میں امریکی اور برطانوی افواج بھی حصہ لے رہے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ برطانوی افواج نے بصرہ میں جنگجوؤں کے ان ٹھکانوں پو توپخانے سے گولہ باری کی جہاں سے عراقی افواج پر گولہ باری کی جاری تھی۔

بصرہ
بصرہ میں بمباری کے دوران عراقی خواتین کی آہ زاری
یہ پہلا موقع ہے کہ بصرہ میں عراقی افواج اور شیعہ ملیشیاؤں کے مابین جاری جنگ میں عراق میں موجود کسی غیرملکی فوج نے حصہ لیا ہو۔ بصرہ میں عراق میں برطانوی افواج کے ترجمان نے کہا ہے کہ کارروائی کامیاب ثابت ہوئی ہے۔

اس دوران یہ خبریں بھی ملی ہیں کہ امریکی طیاروں نے بصرہ پر حملے کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہےکہ وہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

وزیر اعظم نورالمالکی نے مہدی ملیشیا کو پیسے لے کر ہتھیار ڈالنے کے لیے پہلے بہّتر گھنٹے یا تین دن کی مہلت دی تھی اور کہا تھا کہ اگر اس مدت میں ہتھیار نہیں ڈالے گئے تو نتائج کی ذمہ داری ہتھیار نہ ڈالنے والوں پر ہوگی لیکن اس کے بعد اس مہلت میں مزید دس دن کی توسیع کر دی گئی۔

مہدی ملیشیا کے ایک سینیئر اہلکار حارث الاطہری نے بصرہ میں بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس عراقی حکومت کے سامنے ہتھیار ڈالیں گے جو عراق پر امریکی قبضہ ختم کرے گي۔

عراق کے شہر نجف میں واقع مہدی ملیشیا کے ہیڈکوارٹر کے ایک اہلکار حیدر الجباری نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہیں ہتھیار نہ ڈالنے کا حکم دیا گیا ہے۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ’مقتدی الصدر نے ہمیں اس وقت تک ہتھیار نہ ڈالنے کے لیے کہا ہے جب تک امریکہ کو ملک سے باہر نہ پھینک دیا جائے۔‘

بصرہ میں لڑائی
مہدی آرمی اورسرکاری فورسزمیں لڑائی
وڈیو:’فرینڈلی فائر‘
عراق میں ’فرینڈلی فائر‘ کی وڈیو: دی سن
مظاہروں کی ویڈیو
بصرہ میں برطانوی فوج اورمظاہرین میں جھڑپیں
بصرہ میں تشدد
عراقیوں اور برطانوی فوج کے درمیان جھڑپیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد