BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 04 April, 2008, 10:04 GMT 15:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق: پندرہ ہلاک، ملیشیا پر چھاپے بند
بصرہ میں مہدی آرمی نے سخت مزاحمت کی
عراق کے شورش زدہ دیالہ صوبے میں ایک خود کش بمبار نے ایک جنازے میں دھماکہ کر کے کم سے کم پندرہ افراد کو ہلاک کر دیا ہے جبکہ وزیر اعظم نوری المالکی نے پورے ملک میں شیعہ ملیشیاؤں کے ٹھکانوں پر چھاپے روکنے کا حکم دیا ہے۔

لیکن خبر رساں ایجنسی اے پی نے دیالہ کے پولیس سربراہ میجر جنرل عبدالکریم کے حوالے سے کہا ہے کہ کم سے کم بیس لوگ ہلاک ہوئے ہیں اور کئی زخمی ہیں۔

حملہ آور نے بقوبہ سے ساٹھ کلومیٹر دور سادیہ شہر میں ایک پولیس والے کے جنازے کو نشانہ بنایا جسے جمعرات کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

ادھر امریکی فوج کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بصرہ میں مزاحمت کاروں کے ساتھ جاری لڑائی میں عراقی افواج نے جمعرات کو سات عسکریت پسندوں کو ہلاک اور سولہ کو گرفتار کر لیا۔

حملے کی مکمل تفصیلات ابھی نہیں مل پائی ہیں لیکن مرنے والے زیادہ تر لوگ اس پولیس والے کے رشتہ دار بتائے گئے ہیں جس کے جنازے کو نشانہ بنایا گیا۔ دیالہ صوبے میں اس برس کا یہ بدترین حملہ تھا۔

ادھر فوج کے بیان کے مطابق بصرہ میں عسکریت پسندوں کے ایک اہم رہنما کو گرفتار کیا گیا ہے۔ امریکی فوج کے مطابق یہ شخص، جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے، عراقی اور غیر ملکی افواج کے قتل اور اغوا کے واقعات اور تیل کی سمگلنگ میں سرگرم تھا۔

مزید تفصیلات نہیں بتائی گئی ہیں۔

مہدی آرمی نے جوابی کارروائی کی دھمکی دی تھی

اس کے علاوہ امریکی افواج نے بصرہ میں ہی ایک فضائی حملے میں دو عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے۔

امریکی فوج نے پچیس مارچ کو بصرہ میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کی تھی تاکہ وہاں سے شیعہ ملیشیاؤں اور جرائم پیشہ گروہوں کا خاتمہ کیا جاسکے جنہوں نے سن دو ہزار پانچ سے شہر پر اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے۔
لیکن مقتدی الصدر کی مہدی آرمی کی جانب سے سخت مزاحمت کی وجہ سے اس کارروائی میں خاص پیش رفت نہیں ہوسکی۔

اطلاعات کے مطابق مقتدی الصدر نے ایران کی مداخلت کے بعد جنگ بندی کا اعلان کر دیا تھا۔

وزیر اعظم نوری المالکی کے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق پورے ملک میں شیعہ ملیشیاؤں کے ٹھکانوں پر چھاپوں پر روک لگا دی گئی ہے۔ لیکن ابھی یہ واضح نہیں کہ چھاپے کتنے دن بند رہیں گے۔ بظاہر یہ فیصلہ مقتدی الصدر کی جانب سے اس عندیہ کے بعد کیا گیا ہے کہ اگر ان کے حامیوں کی گرفتاری کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو جوابی کارروائی کی جائے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد