BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 12 April, 2008, 01:31 GMT 06:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق:’عرب ممالک کو آگے آنا ہوگا‘
ریان سی کروکر
ریان کروکر عراق پر کانگریس کمیٹی کے سامنے بیان دینےامریکہ آئے ہیں
عراق میں امریکہ کے سفیر نے کہا ہے کہ عرب ممالک کو عراق کے حوالے سے مزید کارکردگی دکھانے کی ضرورت ہے۔

واشنگٹن میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران ریان سی کروکر نے کہا کہ اگر عرب ممالک عراق میں بڑھتے ہوئے ایرانی اثر و رسوخ کے بارے میں فکر مند ہیں تو انہیں عراق میں سفارتی اور اقتصادی طور پر مزید کردار ادا کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ بغداد میں عرب ممالک کے سفراء موجود نہیں اور انہیں یاد نہیں کہ گزشتہ برس کے دوران کسی عرب ملک کے کسی وزیر نے عراق کا دورہ کیا ہو۔

ریان سی کروکر نے کہا کہ’ آپ کسی کو بنا کچھ کیے شکست نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عرب ممالک کو چاہیے کہ وہ صرف عراقی حکومت کو ہی نہیں بلکہ عراق کے عوام کو دکھائیں کہ وہ عراق کے بارے میں فکرمند ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہاں مثبت سرگرمیاں ہوں جن کا اثر عراق اور پورے خطے پر پڑے۔

امریکی سفیر نے یہ بھی کہا کہ امریکہ عراق میں سکیورٹی کی صورتحال میں بہتری کے لیے ایران سے بات چیت کو تیار ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ایران عراق میں محدود اثر و رسوخ رکھتا ہے اور حالیہ واقعات اور عسکری گروہوں اور ایران کے خلاف عوام میں پیدا ہونے والے جذبات کے بعد یہ پہلے سے بھی کم رہ گیا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان شان میکارمک نے بھی گزشتہ بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ متعدد عرب ریاستیں عراق میں اپنی موجودگی دکھانے سے گریزاں ہیں اور ممکنہ طور پر ان میں سے کچھ کے نئی عراقی حکومت سے تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد